ترکیہ سے شامی مہاجرین کی وطن واپسی کا آغاز

   

استنبول : شام میں بشارالاسد کی حکومت کے ختم ہوتے ہی پڑوسی ملک ترکیہ میں مقیم شامی پناہ گزینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بہت سے لوگ جشن منانے کے لیے استنبول اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔اس کے ساتھ ہی ترکیہ سے سینکڑوں شامی مہاجرین اپنے وطن واپس لوٹنا شروع ہوگئے۔ پیر کے روز شام کے ایسے سینکڑوں شہری جو بے تابی سے اپنے گھروں کو واپسی کا انتظار کر رہے تھے، جنوبی ترکیہ میں ایک سرحدی کراسنگ پر جمع ہوگئے۔ ایک ٹیلی ویژن چیانل کی ایک رپورٹ کے مطابق سرحدی چوکیوں پر ترک حکام نے صرف ان شامی پناہ گزینوں کو واپس لوٹنے کے لئے سرحدی چوکیوں تک جانے کی اجازت دی جن کے پاس خاطر خواہ دستاویزات تھیں۔شام میں ایک دہائی سے زیادہ کی خانہ جنگی کے دوران، لاکھوں شامی شہریوں نے پڑوسی ممالک میں پناہ لی تھی جن میں سے تقریباً 30 لاکھ صرف ترکیہ میں ہیں۔لاکھوں شامیوں نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث ترکی کے ساحل سے کشتوں میں سوار ہو کرایک ہلاکت خیز سفر میں یونان اور دیگر ملکوں میں پہنچنے کی کوشش بھی کی ہے۔