تلنگانہ انفارمیشن کمیشن کی عدم تشکیل، درخواست گذاروں کو مشکلات

   

سابقہ حکومت میں کمیشن کی تشکیل کا معاملہ پس پشت کا شکار، حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت

حیدرآباد۔24۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ انفارمیشن کمیشن کی عدم موجودگی آر ٹی آئی درخواست گذاروں کے لئے مشکل صورتحال پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ تلنگانہ میں اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن کی معیاد مکمل ہوئے 2سال کا عرصہ گذرچکا ہے اور اس کے باوجود حکومت کی جانب سے انفارمیشن کمیشن کی تشکیل جدید کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب قانون حق آگہی 2005 کے تحت درخواست داخل کرتے ہوئے سرکاری تفصیلات طلب کرنے والوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور زائد از 10ہزار درخواستیں ریاستی انفارمیشن کمیشن میں زیرالتواء ہیں۔ 26 فروری 2022 کو تلنگانہ ریاستی انفارمیشن کمیشن کی معیاد مکمل ہونے کے بعد فوری طور پر کمیشن کی تشکیل جدید کے بجائے سابقہ حکومت تلنگانہ نے اس معاملہ کو پس پشت ڈال دیا تھا کیونکہ سابق حکومت کے دور میں سرکاری تفصیلات کی اجرائی اور ان کے افشاء کے سلسلہ میں احتیاط برتی جاتی تھی اور حکومت کے مختلف محکمہ جات کی جانب سے تفصیلات کی عدم اجرائی اور قانون حق آگہی کے تحت دریافت کئے گئے استفسار کے مبہم جواب ارسال کرتے ہوئے کام چلایا جاتا تھا اور بیشتر تفصیلات کے حصول کے لئے درخواست گذار کو انفارمیشن کمیشن سے رجوع ہونا پڑتا تھا لیکن 2022 فروری سے ریاست میں انفارمیشن کمیشن کی عدم موجودگی کے سبب کئی درخواستیں زیر التواء ہیں۔ قانون حق آگہی کے تحت داخل کی جانے والی درخواستوں کی عدم یکسوئی سے حکومت کی شفافیت ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حکومت عوام سے معلومات کو مخفی رکھنے کی سازش کر رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں بی آر ایس حکومت اور کے چندر شیکھر راؤ کے دور کے خاتمہ کے بعد قانون حق آگہی کے متعلق شعور بیدار کرنے اور عوام میں اس کے استعمال کو یقینی بنانے کے لئے جدوجہد کرنے والے جہدکاروں کا کہناہے کہ نو منتخبہ حکومت تلنگانہ سے توقع ہے کہ وہ نہ صرف ریاست میں قانون حق آگہی 2005 کو مؤثر بنائے گی اور محکمہ جات کو مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کرے گی بلکہ فوری طور پر تلنگانہ اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن کی تشکیل جدید کے اقدامات کے ذریعہ ریاست تلنگانہ میں شفاف حکمرانی کے نئے دور کا احیاء یقینی بنائے گی۔ قانون حق آگہی2005کے جہدکاروں کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں کارکرد غیر سیاسی کمیشن کی تشکیل اور عوام کو معلومات کی فراہمی کے لئے آن لائن درخواستوں کی وصولی اور جواب ارسال کرنے کے اقدامات کئے جانے کی صورت میں عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا اور حکومت کے مختلف محکمہ جات کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات سے عوام کو آگہی حاصل ہونے کے سبب عوامی حکمرانی ہوگی۔ ریاستی انفارمیشن کمیشن کی تشکیل چیف منسٹر قائد اپوزیشن اور ریاستی کابینہ کے ایک وزیر پر مشتمل کمیٹی کے ذریعہ کی جاسکتی ہے اور حکومت تلنگانہ اگر فیصلہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں اندرون چند یوم 10 کمشنران پر مشتمل تلنگانہ اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن کی تشکیل کے احکامات کی اجرائی عمل میں لاسکتی ہے۔م