’’سیاست‘‘ بی آر ایس کیلئے ٹاسک اور دوسروں کیلئے گیم، کے سی آر نے ریاست کو ترقی دی، مودی نے ملک کو تباہ و برباد کردیا
حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کا بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہے، حکومت عوام پر نئے ٹیکس کا بوجھ عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اپوزیشن شکوک میں مبتلا نہ رہے اور نہ ہی عوام میں شبہات پیدا کریں۔ بی آر ایس کے لئے ’’سیاست‘‘ ایک ٹاسک ہے جبکہ اپوزیشن کے لئے گیم ہے۔ اسمبلی بجٹ پر اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر اعظم نریندر مودی دونوں کے دور حکومت کا 2014 سے آغاز ہوا۔ کے سی آر نے تلنگانہ کو اس طرح کی ترقی دی کہ تلنگانہ ملک کے لئے رول ماڈل بن گیا۔ مرکزی حکومت کے بشمول ملک کی دیگر ریاستیں تلنگانہ کی فلاحی اسکیمات کی تقلید کررہی ہیں۔ تلنگانہ کے ہر گھر کو نلوں کے ذریعہ صاف ستھرا پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ اس اسکیم کی مرکز نے تقلید کی ہے۔ تالابوں کا احیا کیا گیا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ ریکارڈ وقت پر تعمیر کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست کے عوام کو معیاری برقی فراہم کی اس لئے عوام نے 2018 میں کے سی آر کو اقتدار (پاور) سونپا اور اپوزیشن کو پاور لیس کردیا۔ یہاں تک کہ ان کے لئے پاور ہالی ڈے کا اعلان کردیا۔ معیاری برقی کی سربراہی سے دونوں کو نقصان پہنچا ہے۔ موٹر ونیٹرنگ کرنے والے بے روزگار ہوگئے اور اپوزیشن پاور لیس ہوگئے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے زرعی شعبہ کو سنہرے شعبہ میں تبدیل کردیا۔ 8 سال کے دوران زرعی شعبہ میں 92 لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے گئے جس کو دیکھتے ہوئے مشرق، مغرب، شمال، جنوب میں ہر طرف بی آر ایس کو امید بھری نظروں سے دیکھا جارہا ہے اور اب کی بار کسان سرکار کا نعرہ دیا جارہا ہے۔ مودی حکومت نے کارپوریٹ اداروں کے 19 لاکھ کروڑ روپے کے قرض معاف کردیئے۔ کسانوں اور غریب عوام کو نظرانداز کردیا۔ کانگریس اور دیگر جماعتیں ریاست کے صرف قرض کی بات کررہے ہیں۔ دوسری جانب جی ایس ڈی پی کو نظرانداز کررہے ہیں۔ مودی کے دور حکومت میں جی ڈی پی سے زیادہ قرض کا اضافہ ہوا ہے۔ ایف آر بی ایم کے حدود میں تلنگانہ کو 53 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کرنے کی گنجائش تھی، مگر مرکزی حکومت نے اس میں 15 ہزار کروڑ روپے کی کٹوتی کردی۔ نیتی آیوگ اور فینانس کمیشن نے تلنگانہ کی ترقی اور فلاحی اسکیمات سے متاثر ہوکر تلنگانہ کو رقمی منظوری دینے کی مرکز سے سفارش کی جس کو مرکزی حکومت نے نظرانداز کردیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت تمام شعبوں میں پوری طرح ناکام ہوگئی مگر ہر سال پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے بجٹ کو ایک نیا نام دیا گیا۔ پہلے بجٹ کو سب کا ساتھ سب کا وکاس قرار دیا گیا مگر ملک کے مختلف مقامات پر ماب لنچنگ کے واقعات پیش آئے۔ دوسرے بجٹ میں کالے دھن پر قابو پانے کا نعرہ دیا گیا مگر نوٹ بندی کردی گئی جس سے ملک میں غریب و متوسط طبقہ کے عوام پریشان ہوگئے۔ کئی چھوٹی و متوسط کمپنیاں بند ہوگئیں۔ بڑے پیمانے پر لوگ بے روزگار ہوگئے۔ کالا دھن لاکر عوام کے بینک کھاتوں میں جمع کرنے کا اعلان کیا گیا جس پر عوام نے قطاروں پر کھڑے ہوکر بینک کھاتے کھولے، ابھی تک ایک پیسہ بھی ڈپازٹ نہیں ہوا ہے۔ تیسرے بجٹ میں کسانوں کو ترجیح دینے کا وعدہ کیا گیا مگر 2020 میں تین سیاہ قانون لاتے ہوئے 750 کسانوں کی زندگیاں ضائع کی گئیں۔ سال میں 2 کروڑ ملازمتوں کا وعدہ کیا گیا جس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی۔ مودی کے دور حکومت میں جی ڈی پی کو نقصان پہنچانے میںبی جے پی کامیاب ہوگئی، فوڈ سیکوریٹی کو تباہ و برباد کرنے میں کامیاب ہوئی۔ 160 لاکھ کروڑ روپے کا ملک کو مقروض بنانے، سیس کے نام پر ٹیکس وصول کرنے، پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے، چھوٹے بچوں کے دودھ پر جی ایس ٹی نافذ کرنے، جمہوری انداز میں منتخب حکومت کو اقتدار سے محروم کرنے، اپوزیشن پر ای ڈی، سی بی آئی کے دھاوے کرانے، عوامی شعبہ کے اداروں کو فروخت کرانے میں ہی بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کامیاب ہوئی ہے۔ ن
اسمبلی میں تین سابق ارکان کو خراج
حیدرآباد۔/8 فروری، ( سیاست نیوز) اسمبلی میں تین سابق ارکان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تعزیتی قرارداد منظور کی گئی۔ اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی نے کریم نگر کے سابق رکن اسمبلی وی جگپتی راؤ، ہنمکنڈہ کے سابق رکن اسمبلی ایم ست نارائن ریڈی اور نلگنڈہ کی سابق رکن اسمبلی شریمتی جی ردرماں دیوی کے دیہانت پر تعزیتی قرارداد پیش کی۔ اسپیکر نے سابق ارکان اسمبلی کی عوامی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے دیہانت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور سوگوار افراد خاندان سے گہرے جذبات و ہمدردی وابستہ کی۔ر
قرارداد کی منظوری کے بعد بطور احترام دو منٹ کی خاموشی منائی گئی۔ر