تلنگانہ میں ارکان پارلیمنٹ ترقیاتی فنڈ کے 150 کروڑ کی اجرائی باقی

   

کام کی تکمیل کے بعد کنٹراکٹرس پریشان، مرکزی حکومت سے پلاننگ کمیشن کی نمائندگی
حیدرآباد۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 2014 تا2019 ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی فنڈز کی عدم اجرائی کے سبب کنٹراکٹرس کو مشکلات کا سامنا ہے۔ نائب صدر نشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے مرکزی وزیر برائے پروگرام عمل آوری کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کیا۔ انہوں نے راجیہ سبھا ارکان کیلئے جاری کردہ ترقیاتی فنڈ کی طرح لوک سبھا ارکان کو فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 تا 2019 وہ کریم نگر سے لوک سبھا کے رکن رہے۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ ترقیاتی فنڈ کے تحت مختلف ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا اور میعاد کے دوران یہ کام مکمل کئے گئے لیکن کنٹراکٹرس کو ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔ مرکز کی جانب سے فنڈز کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں ضلع حکام بے بس ہیں۔ ڈپٹی ڈائرکٹر برائے ارکان پارلیمنٹ ترقیاتی فنڈ نے تلنگانہ کے پلاننگ ڈپارٹمنٹ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ 2020-21 سے متعلق فنڈز کی تجاویز وزارت فینانس کو روانہ کردی گئی ہیں۔ کوویڈ۔19 کے نتیجہ میں مرکزی کابینہ نے دو برسوں کیلئے ترقیاتی فنڈز اسکیم پر عمل آوری روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت کے پاس اجرائی کیلئے بجٹ نہیں ہے۔ ونود کمار نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ کابینہ نے 2020-21 اور 2021-22 کیلئے رکن پارلیمنٹ ترقیاتی فنڈ روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ فیصلہ سولہویں لوک سبھا پر نافذ نہیں ہوگا۔ ونود کمار نے سولہویں لوک سبھا کے 15 ارکان اور راجیہ سبھا کے 6 ارکان جن کا تعلق تلنگانہ سے ہے انہیں جاری کردہ فنڈز کی تفصیلات روانہ کی ہیں جس کے تحت مرکز سے 150 کروڑ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کنٹراکٹرس جنہوں نے ترقیاتی کام انجام دیئے عدم ادائیگی کی صورت میں مشکلات سے دوچار ہیں۔