اصل اور سود کی رقم ادا کرنے کی ذمہ داری ۔سابقہ قرض ادا کرنے مزید قرض حاصل کئے گئے ۔ سی اے جی رپورٹ
حیدرآباد 3 اگسٹ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ ریاست پر قرض کے بوجھ میں لگاتار اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ گذشتہ دس برس کے دوران ریاستی حکومت نے لاکھوں کروڑ روپئے کے قرض حاصل کئے تھے اور اب ریاست کی جانب سے ادائیگیوں کی بات کی جائے تو تلنگانہ کو آئندہ دس برس میں جملہ 2.67 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض واپس کرنے ہیں ۔ یہ قرض مارکٹ سے حاصل کئے گئے تھے ۔ اس رقم میں اصل محصلہ قرض اور سود کی رقم دونوں ہی شامل ہیں۔ یہ ادائیگی 2033 تک کرنی ہے ۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی جملہ گھریلو پیداوار میں 15.09 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے اور یہ جملہ 8.60 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 13.13 لاکھ کروڑ تک 2022- 23 میں پہونچ گئی ہے ۔ سال 2022 – 2023 کی یہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کی گئی تھی ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مارکٹ سے محصلہ قرض کے علاوہ ریاستی حکومت کو کچھ مالیاتی اداروں جیسے نیشنل اسمال سیونگس فنڈ اور ایل آئی سی کی جانب سے لئے گئے قرض کی اصل رقم 19,210 کروڑ روپئے بھی ادا کرنے ہونگے ۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے بموجب جو اعداد و شمار اس کے پاس دستیاب ہیں ان کے مطابق ریاستی حکومت کو سال 2032 – 33 تک جملہ 2,67,018 کروڑ روپئے اصل رقم اور سود کی بابت ادا کرنی ہوگی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال ریاستی حکومت پر دباؤ کا موجب بنے گی اور اس کی مختلف اسکیمات پر ہونے والے خرچ بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکٹ سے محصلہ قرض کا زیادہ تر حصہ عوامی شعبہ کے اداروں ‘ خود مختار اداروں وغیرہ کو قرضہ جات فراہم کرنے اور خصوصی مقاصد کیلئے گاڑیوں کے حصول پر خرچ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ سابقہ قرضہ جات کی اصل رقم اور سود دونوں ہی ادا کرنے کیلئے بھی یہ رقومات خرچ کی گئیں۔ کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا کوئی صحتمندانہ روش نہیں تھی تاہم ایسا کیا گیا ۔ کہا گیا ہے کہ 17,000 کروڑ روپئے کی رقم صرف کچھ اداروں کو سابقہ قرض ادا کرنے کیلئے جاری کی گئی ہے ۔ سی اے جی نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابقہ بی آر ایس حکومت نے بجٹ کے کالمس میں کئی اعداد و شمار کو پیش نہیں کئے گئے ۔ پتہ چلا کہ تلنگانہ سیول سپلائز کارپوریشن کو 50 ہزار کروڑ کی جو ضمانتیں دی گئی تھیں ان کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح ڈسکامس کے مالیہ میں 16 ہزار کروڑ کی کمی کا افشاء نہیں کیا گیا ۔ کہا گیا کہ حکومت تلنگانہ ‘ مرکزی حکومت کے اکاؤنٹنگ معیارات کی تکمیل کرنے میں بھی ناکام رہی ہے ۔