ضلعی کمیٹیاں تحلیل کرنے نئی کمیٹیاں تشکیل دینے پر غور، حیدرآباد کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا جائزہ
حیدرآباد ۔9 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس صدارت کی ایک سالہ میعاد مکمل کرنے والے اے ریونت ریڈی پارٹی کے تنظیمی جدید خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ تمام ضلعی کمیٹیوں کو تحلیل کرتے ہوئے نئی کمیٹیاں تشکیل دینے کی مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ کانگریس پارٹی ہائی کمان نے اضلاع کی نئی کمیٹیاں تشکیل دینے کیلئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی کو مکمل آزادی دی ہے۔ ساتھ ہی پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹریز و جوائنٹ سکریٹریم نامزد کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ نئے جنرل سکریٹریز کا بھی انتخاب باقی ہے انہیں اضلاع کا انچارجس نامزد کرتے ہوئے کانگریس کی ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فی الحال حیدراباد کو ایک ضلع کے طور پر تصور کیا جارہا ہے۔ تاہم بیشتر اسمبلی حلقوں پر مناسب انداز میں توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ حیدرآباد کو تین اضلاع میں تقسیم کرنے کی اے آئی سی سی سے منظوری حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس طرح حیدرآباد، سکندرآباد اور خیرت آباد تین اضلاع میں تقسیم کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ ضلع حیدرآباد میں 6 اسمبلی حلقہ جات بہادرپورہ، چندرائن گٹہ، چارمینار، کاروان، یاقوت پورہ اور ملک پیٹ کو شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس طرح خیریت آباد ضلع میں اسمبلی حلقہ جات جوبلی ہلز، خیرت آباد، نامپلی، گوشہ محل اور عنبرپیٹ کو شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے جبکہ ضلع سکندرآباد میں صنعت نگر، سکندرآباد، کنٹونمنٹ، مشیرآباد اسمبلی حلقوں کو شامل کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ن