مخالف میناکشی نٹراجن عناصر سرگرم، کاغذات کے انکشاف پر کانگریس پارٹی میں ہلچل
حیدرآباد۔ 10 جون (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی میں کیا واقعی بی جے پی کے جاسوس سرگرم ہیں؟ مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا نشست کے لئے اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ میناکشی نٹراجن کے پرچۂ نامزدگی کو مسترد کئے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے گشت کررہا ہے اور کانگریس پارٹی دفاعی موقف میں نظر آرہی ہے۔ میناکشی نٹراجن کے پرچۂ نامزدگی کو ریٹرننگ آفیسر نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ نٹراجن نے تلنگانہ میں ان کے خلاف درج ایک مقدمہ کے بارے میں پرچۂ نامزدگی میں حوالہ نہیں دیا۔ مقامی بی جے پی قائدین کی جانب سے ریٹرننگ آفیسر کو تلنگانہ کے کچھ دستاویزات پیش کئے گئے جن میں مقامی عدالت کی جانب سے میناکشی نٹراجن کو نوٹس کی اجرائی کا انکشاف ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد سے مدھیہ پردیش کے بی جے پی قائدین کو یہ کاغذات حاصل ہوئے۔ سیاسی حلقوں اور خاص طور پر سوشیل میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ کانگریس پارٹی میں بی جے پی کے جاسوس سرگرم ہیں جو وقتاً فوقتاً پارٹی کے اہم راز بی جے پی قیادت تک پہنچا رہے ہیں۔ میناکشی نٹراجن کے پرچۂ نامزدگی کو مسترد کئے جانے کے بعد مدھیہ پردیش کے بی جے پی وزیر کیلاش وجئے ورگیہ نے یہ انکشاف کرتے ہوئے کانگریس کی مشکلات میں اضافہ کردیا کہ مقدمہ سے متعلق کاغذات کانگریس سے وابستہ افراد نے بی جے پی تک پہنچائے ہیں۔ کیلاش وجئے ورگیہ کے بیان کے بعد تلنگانہ کانگریس کے حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا واقعی کسی اندرونی شخص نے جاسوسی کی ہے۔ اس بات کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تلنگانہ کانگریس میں مخالف میناکشی نٹراجن گروہ نے عدالت کی نوٹس کے بارے میں تفصیلات بی جے پی تک پہنچائی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے وزیر شہری ترقی کیلاش وجئے ورگیہ نے کہا کہ کانگریس کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ بی جے پی کو جو کاغذات حاصل ہوئے ہیں وہ کس نے دیا اور کہاں سے آئے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حالت کے بارے میں ہر کوئی بخوبی اندازہ کرسکتا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت ہے اور ہمارے پاس تلنگانہ کے کاغذات پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کانگریس کے لوگوں نے ہی یہ جانکاری دی ہوگی۔ ہمارے پاس تو یہ جانکاری نہیں تھی۔ وجئے ورگیہ نے صاف طور پر اشارہ دیا ہے کہ کانگریس کے اندرونی حلقوں سے میناکشی نٹراجن پر مقدمہ سے متعلق دستاویزات حاصل ہوئے ہیں۔ بی جے پی وزیر کے انکشاف کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ میناکشی نٹراجن کے پرچۂ نامزدگی کو مسترد کئے جانے میں تلنگانہ کا اہم رول ہے۔ اطلاعات کے مطابق کانگریس کے بعض ناراض عناصر نے مقدمہ سے متعلق دستاویزات تلنگانہ کے بی جے پی قائدین تک پہنچائے جنہیں مدھیہ پردیش روانہ کیا گیا۔ 1؍F