سماجی، معاشی، تعلیمی، روزگار اور سیاسی سروے میں انکشاف
حیدرآباد۔18اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ کی 32 فیصد آبادی ریاست کی 51 فیصد اراضیات کے مالکانہ حقوق رکھتی ہے۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کروائے گئے سماجی ‘ معاشی ‘ تعلیمی ‘ روزگار اور سیاسی سروے کے دوران ہونے والے انکشافات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں اراضیات کی ملکیت رکھنے والوں میں ریڈی طبقہ سب سے آگے ہے جو کہ 4.8 فیصد آبادی کا حصہ ہے لیکن ریڈی طبقہ کی ملکیت میں ریاست کی مجموعی اراضیات کے 13.5 فیصد مالکانہ حقوق ہیں۔ریڈی ‘ یادو‘ لمباڑہ ‘ مدیراج‘ منورکاپو‘ کرما اور کویا طبقات جو کہ تلنگانہ کی آبادی کا مجموعی طور پر 32 فیصد ہیں لیکن ان کی ملکیت کا جائزہ لیں تو اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 51فیصد جائیدادیں ان 32 فیصد آبادی کے پاس ہیں۔ماہرین کے مطابق زرعی اراضیات ہوں یا نہ ہوں لیکن جن کے پاس اراضیات ہوتی ہیں وہ طبقات در حقیقت معاشی طور پر مستحکم ہوتے ہیں کیونکہ زرعی اراضیات پر ہونے والی پیداوار اور انہیں کرایہ پر دینے سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کے ذرائع میں اضافہ کرتی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ 5تا20 ایکڑ اراضی رکھنے والوں میں مذکورہ طبقات کی بڑی تعداد ہے ۔ریاست میں اراضیات کے مالکانہ حقوق سب سے کم او سی کے پاس ہیں اور اگر او سی میں شامل طبقات کا جائزہ لیں تو اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ وہ مسلم طبقات جو او سی میں شمار کئے جاتے ہیں وہ سب سے کم اراضیات کے مالک ہیں۔ یادو جو کہ بی سی طبقہ میں شامل ہیں ان کی مجموعی آبادی 5.7 فیصد ہے لیکن یادو طبقہ کے پاس ریاست کی مجموعی اراضیات میں 8.7 فیصد اراضیات ان کے مالکانہ حقوق میں ہیں۔ایس ٹی طبقہ میں شامل لمباڑہ جن کی آبادی مجموعی اعتبار سے 6.8 فیصد ہے ان میںکے پاس 8.6 فیصد اراضیات موجود ہیں۔سروے میں ہوئے انکشافات کے دوران ریاست میں اراضیات کی ملکیت رکھنے والوں کی معاشی ‘ تعلیمی ‘ سماجی حالت میں آنے والی بہتری سے متعلق بھی تفصیلات دی گئی ہیں۔3/M/H