تلنگانہ کی تمام یونیورسٹیز کے معیار کو بہتر بنانے پر زور

   

نو نامزد وائس چانسلرس ، صدر نشین اعلیٰ تعلیمی کونسل کی چیف منسٹر سے ملاقات
حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) ریاست کی تمام جامعات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے کام کیا جائے اور یونیورسٹیز کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج نونامزدہ کردہ یونیورسٹی وائس چانسلرس کے علاوہ صدرنشین تلنگانہ کونسل برائے اعلی تعلیمات سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت جامعات کے امور کو بہتر بنانے اور تعلیمی معیار کے فروغ کے لئے یونیورسٹی سے مکمل تعاون کے لئے تیار ہے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہاکہ ریاستی حکومت سے کسی بھی وائس چانسلر کا انتخاب سفارش کی بنیاد پر نہیں کیاہے بلکہ جو بھی وائس چانسلرس منتخب کئے گئے ہیں وہ اپنی صلاحیتوں اور سماجی مساوات کی بنیاد پر منتخب کئے گئے ہیں حکومت نے سرچ کمیٹی کو مکمل اختیار دیا تھا کہ وہ قابل باصلاحیت اور میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں۔ چیف منسٹر نے وائس چانسلرس کو مشورہ دیا کہ وہ یونیورسٹی طلبہ میں منشیات کے کلچر کو فروغ پانے سے روکنے کے لئے اقدامات کریں تاکہ ریاست سے منشیات کے خاتمہ کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں یونیورسٹی طلبہ اور وائس چانسلرس کے درمیان گہرا تعلق ہوا کرتا تھا اور یونیورسٹی کے وائس چانسلرس کو طلبہ کئی برسوں تک یاد کیا کرتے تھے لیکن اب اس طرح کا ماحول نہیں رہا اسی لئے وائس چانسلرس کو اپنی جامعات اور اس میں تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ طلبہ سے تعلق کو مستحکم بنانے کے اقدامات بھی کرنے چاہئے ۔ چیف منسٹر نے وائس چانسلرس سے ملاقات کے دوران جامعات پر عوامی اعتماد ختم ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیز پر عوامی اعتماد ختم ہونے کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے ان مسائل کو حل کیا جائے جو بے اعتمادی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یونیورسٹیز پر اعتماد پیدا ہونے کی صورت میں ہی نسلوں کی ترقی ممکن ہوسکتی ہے اور اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو حالات کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی وائس چانسلرس کو مشورہ دیا کہ یونیورسٹیوں کے نظام میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے اسے درست کرنے کے لئے اصلاحات پر توجہ دیں اور ضرورت پڑے تو مشاورتی اجلاس منعقد کرتے ہوئے اتفاق رائے کے ساتھ کام کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کریں۔انہو ںنے تمام یونیورسٹیز کا جامع مطالعہ کرتے ہوئے رپورٹ تیار کرتے ہوئے حکومت کو پیش کرنے کا مشورہ دیا۔3