’ تھری آئی ‘ فلسفہ کے ساتھ تلنگانہ نے غیر معمولی ترقی حاصل کی : کے ٹی آر

   

8 سال میں جی ایس ڈی پی 5.6 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 11.55 لاکھ کروڑ تک پہونچ گئی
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ نے 8 سال کے دوران قابل ذکر ترقی کی ہے ۔ ریاست کی فی کس آمدنی دو گنی ہوگئی ہے ۔ سال 2014 میں جی ایس ڈی پی 5.6 کھ کروڑ تھی جو سال 2022 میں بڑھ کر 11.55 لاکھ کروڑ تک پہونچ گئی ہے ۔ وزیراعظم سے کی گئی ملاقات میں انہیں یہی بات بتائی گئی ہے ۔ حیدرآباد کے رائے درگم میں واقع نالج سٹی کے ٹی ہب میں منعقدہ ڈپلومیٹک اوٹ رچ پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ ’ تھری آئی ‘ فلسفہ کے ساتھ ترقی کررہی ہے ۔ مختصر عرصہ میں تلنگانہ ریاست نے جو ترقی کی ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ تلنگانہ کے تمام شعبے ترقی میں سرفہرست ہیں ۔ زرعی ، آئی ٹی اور صنعتی شعبوں میں تیزی سے ترقی کررہی ہے ۔ ریاست کے 20 لاکھ ایکڑ اراضی پر آئیل پام کی کاشت ہورہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت آبپاشی پراجکٹس اور فلاحی اسکیمات پر بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کررہی ہے ۔ فارما سیوٹیکل ہب ، بائیو سائنس ہب کے طور پر تلنگانہ ترقی کے منازل طئے کررہا ہے ۔ ایرو اسپیس شعبہ میں بھی غیر معمولی ترقی حاصل کی گئی ہے ۔ امریکی صدر کی جانب سے استعمال کئے جانے والے ہیلی کاپٹر کے چند پرزے یہاں تیار ہورہے ہیں ۔ گوگل ، امیزان ، مائیکرو سافٹ ، موٹا جیسی کمپنیاں امریکہ کے بعد اپنا دوسرا برانچ حیدرآباد میں قائم کرچکے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کو سرفہرست مقام پر پہونچنا ہے تو انفراسٹرکچر ، انکلوثزس اور انوویشن کے فلسفہ پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ۔۔ ن