تھیٹرس، ہاسپٹلس اور تجارتی اداروں میں من مانی پارکنگ فیس

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کی برہمی، سرکاری محکمہ جات سے آج وضاحت طلبی
حیدرآباد۔/19 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے کمرشیل مالس، تھیٹرس، دواخانوں اور دیگر تجارتی اداروں میں عوام کی جانب سے بھاری اور من مانی پارکنگ فیس کی وصولی کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ عدالت نے اس سلسلہ میں حکام کی خاموشی کے بارے میں ناراضگی جتائی۔ عدالت نے پولیس، جی ایچ ایم سی اور دیگر متعلقہ محکمہ جات سے وضاحت طلب کی ہے۔ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے بلدی نظم و نسق، ٹاؤن پلاننگ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، فائر، پولیس اور لیبر ڈپارٹمنٹ کو مقدمہ میں فریق بنایا ہے۔ ان محکمہ جات سے استفسار کیا گیا کہ وہ پارکنگ فیس کی زائد وصولی پر خاموش کیوں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہر کمرشیل کامپلکس میں پارکنگ کیلئے مناسب جگہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے بعد ہی بلڈنگ پرمیشن دیا جاتا ہے باوجود اس کے عوام سے من مانی فیس وصول کی جارہی ہے۔ ہائی کورٹ نے کمشنر جی ایچ ایم سی اور دیگر شعبہ جات کو مقدمہ میں فریق بنایا اور استفسار کیا کہ پارکنگ فیس کی لوٹ کو کس طرح اجازت دی جارہی ہے جبکہ وزیٹرس سے فیس کی وصولی نہ کرنے کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت پیر کو ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری اداروں کو زائد فیس کی وصولی پر مالس اور دیگر تجارتی اداروں کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے لیکن وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جسٹس ابھینند کمار شاولی اور جسٹس ابھیشک ریڈی جو ہائی کورٹ کی مفاد عامہ کی درخواستوں سے متعلق کمیٹی کے ارکان ہیں انہوں نے حیدرآباد میں زائد فیس کی وصولی کے مسئلہ پر رجسٹری کو ہدایت دی کہ اس مسئلہ کو مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے چیف جسٹس کے اجلاس پر پیش کریں۔ر