جامعہ عثمانیہ میں 65 فیصد جائیدادیں مخلوعہ

   

حکومت کی غفلت و لاپرواہی سے یونیورسٹی کا معیار اور تعلیم متاثر

حیدرآباد۔ جامعہ عثمانیہ میں 65 فیصد جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور یونیورسٹی چلائی جا رہی ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا کہ ریاست تلنگانہ کی تمام جامعات میں موجود مخلوعہ جائیدادوں پر جلد سے جلد تقررات عمل میں لائے جائیں گے لیکن اس سلسلہ میں کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے نہ صرف یونیورسٹی کا معیار بلکہ طلبہ کی تعلیم بھی متاثر ہونے لگی ہے۔جامعہ عثمانیہ کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سیتین سال قبل 1061جائیدادوں کو منظوری دی گئی تھی لیکن ان میں کسی ایک جائیداد پر بھی تقرر عمل میں لانے کے اقدامات نہیں کئے گئے ۔جامعہ عثمانیہ میں 1246 کا تدریسی عملہ منظورہ ہے لیکن ان میں صرف 427 برسر خدمت ہیں اسی طرح 3500 کے غیر تدریسی عملہ کو منظوری دی گئی ہے لیکن ان میں صرف1300 افراد خدمات انجام دے رہے ہیں۔مجموعی اعتبار سے جامعہ عثمانیہ کے مختلف شعبوں میں 3019 جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور ان جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ نمائندگیوں کے باوجود کوئی پہل نہیں کی گئی ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے جامعہ عثمانیہ میں صد سالہ تقاریب کے دوران415تقررات عمل میں لائے گئے تھے اور یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جہاں 19 جائیدادیں منظورہ ہیں وہاں صرف 4 افراد پر مشتمل عملہ کے ذریعہ کام چلایا جا رہاہے اسی طرح دیگر شعبہ جات میں بھی درکار عملہ سے انتہائی کم تعداد میں عملہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی میں مکمل کام انجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شہر حیدرآباد و ریاست تلنگانہ کی مرکزی جامعہ عثمانیہ میں ہی نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کی دیگر جامعات کی صورتحال بھی یہی ہے اور ریاستی حکومت کے تحت موجود یونیورسٹیوں میں عملہ کی قلت کو دور کرنے کے حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ جامعہ میں خدمات انجام دینے والوں کے علاوہ طلبہ کیلئے بھی مشکل کا باعث ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست کی جامعات میں تقررات کے مسئلہ کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے جو کہ ریاست تلنگانہ کے شعبہ تعلیم بالخصوص ریاست میں اعلی تعلیم کے لئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہونے کے تحت مختلف تنظیموں کی جانب سے متعدد نمائندگیاں کی جاچکی ہیں۔