ایم این ایس رئیلٹی نے 264 کروڑ روپئے فی ایکڑ کی کامیاب بولی لگا کر زمین حاصل کی ۔ 28 اگسٹ کو پلاٹ نمبر 2 کا ہراج ہوگا
محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد21اگسٹ :کیا آپ جانتے ہیں 1386 کروڑ میں کتنے صفر ہوتے ہیں! اگر نہیں تو جان لیجئے کہ 1386 کروڑ لکھنے 11عدد درکار ہوتے ہیں جن میں 7 صفر ہوتے ہیں۔ 13860000000میں 5ایکڑ25 گنٹے وقف اراضی ہراج کردی گئی ۔جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ جائیدادسروے نمبر 83/1 میں موجود 5ایکڑ 25 گنٹے اراضی کے ہراج سے حکومت کو ریکارڈ آمدنی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ایم ایس این ریڈی کی ملکیت والی کمپنی ایم ایس این ریالیٹیزنے 264 روپئے فی ایکڑ کی بولی لگاکر تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ای ۔ ہراج میں اس موقوفہ جائیدادکو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ بتایا گیا کہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ای ۔ہراج میں حصہ لینے والی کمپنیوں میں ایم ایس این گروپ کی ریالیٹی کمپنی نے اس اراضی کی سب سے زیادہ بولی لگاکر حاصل کیا ہے۔ مذکورہ اراضی کے متعلق ہائی کورٹ میں جاری مقدمات کے علاوہ سپریم کورٹ میں بھی ایک عرضی دائر کرکے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کو ہراج سے روکنے درخواست کی گئی تھی۔ درخواست گذار جے ۔پرنیئے سمہا راؤ نے عدالت کو مذکورہ اراضی ہراج سے ماحولیات کو ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کرکے اسے روکنے کی خواہش کی تھی جس پر سپریم کورٹ ججس جسٹس جوائے مالا باگچی اور جسٹس وی موہنا نے مداخلت سے انکار کرکے معاملہ کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔درخواست گذار کی جانب سے سینیئر وکیل مسٹر نیرج کشن کول نے عدالت میں دلائل پیش کئے جبکہ ریاستی حکومت ‘ ایچ ایم ڈی اے ‘ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن سے رکن راجیہ سبھا ابھیشک منو سنگھوی نے پیروی کرکے مذکورہ ہراج کو روکنے کی مخالفت کی ۔ جامعہ نظامیہ کے تحت موجودہ وقف جائیداد کے متعلق سپریم کورٹ سے کسی طرح کی ماحولیات کے معاملہ میں راحت نہ ملنے کی بنیاد پر تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے ہراج کو جاری رکھا ۔ پلاٹ نمبر 1 کے ہراج کے بعد اب 28 اگسٹ کو پلاٹ نمبر 2 کا ہراج ہونا ہے اور تاحال وقف بورڈ یا جامعہ نظامیہ سے ہائی کورٹ میں دائر مقدمہ میں کوئی جوابی حلف نامہ داخل نہیں کیاگیا ۔ جامعہ نظامیہ کی اس 5ایکڑ 25گنٹے اراضی کی ہراج سے فروخت سے حکومت کو جملہ 1386 کروڑ روپئے حاصل ہوئے اور ماہرین رئیل اسٹیٹ کے مطابق شہر میں تاریخ میں سب زیادہ قیمتی اراضی فروخت ہونے کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے جو موقوفہ جائیداد ہے۔ ریاستی حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود سے وقف بورڈ حکام کو اس سلسلہ میں کسی پیشرفت یا قانونی کاروائی سے باز رکھنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو وقف جائیداد کو سرکاری نگرانی میں تباہ کرنے کے مماثل ہے۔ رائے درگ پان مقطعہ سروے نمبر83/1 میں موجود 510 ایکڑ 35 گنٹے اراضی کے جامعہ نظامیہ کے تحت وقف ہونے کا ریکارڈ بشمول ’منتخب‘ اور ’وقف نامہ ‘ موجود ہے اس کے باوجود اراضی ہراج کے اقدامات پر مجرمانہ خاموشی سے عوام کی تشویش میں اضافہ ہونے لگا ہے۔