جامعہ نظامیہ وقف کیلئے توجہ دہانی پر خاموشی، ممتاز یار الدولہ وقف پر سیاسی دباؤ قبول

   

انوار العلوم، ممتاز کالج و دیگر تعلیمی اداروں کو راست انتظامیہ میں لینے وقف بورڈ سرگرم ، قوانین اور اصولوں کوبالائے طاق رکھنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔24۔اگسٹ(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ادارے اگر قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئی کام کریں تو ان سے بازپرس نہیں ہوتی ہے واحد محکمہ اقلیتی بہبود ہی ایسا ادارہ ہے جہاں عہدیداروںکی من مانی کو قانونی موقف حاصل ہے!تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی اراضی کوقوانین ‘ اصولوں اور رہنمایانہ خطوط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس انداز میں ہڑپنے کی کوشش کی گئی تھی اب اسی طرح غیر قانونی طور پر تلنگانہ وقف بورڈ کے توسط سے محکمہ اقلیتی بہبودانوارالعلوم ‘ ممتاز یارالدولہ ‘ اور ممتاز کالج کی موقوفہ جائیدادوں کو اپنی نگرانی میں لینے کی تیاری میں مصروف ہے۔تلنگانہ وقف بورڈ اورمحکمہ اقلیتی بہبود نے بورڈ کا اجلاس منعقد کئے بغیر ممتاز یار الدولہ ‘ممتاز کالج کے علاوہ انوار العلوم جونیئر و ڈگری کالج کو راست اپنی نگرانی میں لینے کے لئے اقدامات شروع کردیئے ہیں ۔ بتایا جاتاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی ہدایت کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے انوارالعلوم کالج‘ ممتاز کالج کے علاوہ دیگر ملحقہ و متعلقہ کالجس کو اپنی راست نگرانی میں لینے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ سکریٹری انوارالعلوم سوسائٹی کو حراست میں لئے جانے کے بعد سے سیاسی دباؤ کے تحت ان اداروں کو راست بورڈ کی نگرانی میں لینے کے عمل کا جائزہ لیا جارہا تھا لیکن ماہرین قانون کی رائے کے حصول کے بعد بغیر بورڈ کا اجلاس منعقد کئے ان اداروں کو اپنی نگرانی میں لینے سے گریز کا فیصلہ کیاگیا تھا لیکن اب سیاسی دباؤ میں ہونے والے اضافہ کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ ان اداروں کو اپنی راست نگرانی میں لینے کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کرچکا ہے جبکہ جون کے اواخرسے مسلسل ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی کو ہونے والے نقصانات اور اس کی فروخت کی کوششوں پر مسلسل توجہ دہانی کروائی جا رہی ہے اس پر کسی بھی طرح کی سرگرمی نہیں دکھائی گئی اور اب انوار العلوم کے تعلیمی اداروں کو اپنی نگرانی میں لیتے ہوئے انہیں بورڈ کے ذریعہ چلانے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ ابتدائی طور پر تلنگانہ وقف بورڈ نے ان تعلیمی اداروں کو اپنی نگرانی میں حاصل کرنے کے لئے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھالیکن سیاسی طور پر اس بات کی مخالفت کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کو اس بات کی ہدایت دی گئی کہ وہ مذکورہ تعلیمی اداروں کو چلانے کے لئے ایک کمیٹی تیار کرتے ہوئے ان تعلیمی اداروں کے انتظامی امور مذکورہ کمیٹی کے حوالہ کرنے کے اقدامات کرے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود نے اس طرح کی کسی کمیٹی تشکیل کو اپنے طور پر تشکیل دینے کے سلسلہ میں قانونی رکاوٹوں کو نظر میں رکھتے ہوئے کسی بھی اقدام سے گریز کیا لیکن اب تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو محکمہ اقلیتی بہبود سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے بورڈ کا اجلاس منعقد کئے بغیر ان اداروں کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ان کے ذریعہ راست تلنگانہ وقف بورڈ کے کنٹرول میں لینے کے اقدامات کررہی ہے اور اس فائل میں 2017 میں کی جانے والی کاروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ 2017 سے انوار العلوم اور دیگر ادارہ جات وقف بورڈ کے زیر انتظام ہی ہیں اور ان اداروں کی نگرانی تلنگانہ وقف بورڈ کررہا ہے۔ شہر حیدرآبا دمیں ایڈوکیٹ جناب خواجہ معز الدین کے قتل کے بعد پیدا شدہ حالات کے پیش نظر قلب شہر میں واقع ممتاز یارالدولہ کی موقوفہ جائیداد‘ انوارالعلوم تعلیمی ادارہ جات کے علاوہ ممتاز کالج اور دیگر تعلیمی ادارے جو کہ موقوفہ اراضی پر چلائے جا رہے ہیں۔3/i ( سلسلہ صفحہ 7 پر )