اسٹاکہوم: ناروے کے نوبل انعام دینے والے ادارے نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم حملوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تنظیم نیہون ہڈانکیو کو اس سال کے نوبل امن انعام کیلئے منتخب کیا ہے ۔نوبل کمیٹی نے روس یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا میں جاری تنازعے کے تناظر میں جوہری ہتھیاروں کی ممانعت پر اتفاق رائے کو توڑنے کے خطرات سے دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے ’ نیہون ہیدانکیو‘امن انعام کا انتخاب کیا ہے ۔جمعہ کو اس ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے ناروے کی نوبل کمیٹی کے چیئرمین جورجین واٹنے فریڈنس نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت پر عالمی اتفاق رائے آج دباؤ کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس جاپانی تنظیم کو ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیا ہے ۔’’نیہون ہیدانکیو‘سال 1956 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ 6 اور 9 اگست 1945 کو جاپان پر امریکی ایٹم بم حملوں میں زندہ بچ جانے والوں کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ بااثر تنظیم ہے ۔ اس کا مشن جوہری ہتھیاروں کے تباہ کن انسانی نتائج کے بارے میں عالمی سطح پر بیداری پیدا کرنا ہے۔ ہیباکوشا ہیروشیما اور ناگاساکی کے زندہ بچ جانے والوں نے اپنے ذاتی تجربات اور اپنے علاقوں میں ان جوہری حملوں سے ہونے والی تباہی کی کہانیاں شیئر کرکے ، بین الاقوامی ‘جوہری ممانعت’ پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یہ اتفاق رائے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو اخلاقی طور پر ناقابل قبول قرار دے کر جوہری ممانعت کے ایک طاقتور اصول کے طور پر کام کر رہا ہے ۔نوبل کمیٹی نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف عالمی سطح پر مخالفت پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کیلئے ان کی انتھک کوششوں کیلئے نیہون ہیڈانکیو کی تعریف کی، یہ نوٹ کیا کہ ان کی گواہی نے اس طرح کے ہتھیاروں کی وجہ سے ہونے والے ناقابل تصور درد اور تکالیف کا ایک انوکھی، پہلے ہاتھ کی سمجھ فراہم کی ہے۔