جرمنی میں اے ایف ڈی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

   

برلن ۔ 4 جولائی (ایجنسیز) مشرقی جرمن شہر ایرفرٹ میں ہفتہ کے روز ہزاروں مظاہرین نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی)کے سالانہ اجلاس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اہم شاہراہیں بند کر دیں اور عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر کیا۔ پولیس کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد ریاست تھورنگیا کے دارالحکومت ایرفرٹ میں جمع ہوئے تاکہ اس جماعت کے خلاف احتجاج کر سکیں، جو اس وقت قومی سطح کے عوامی جائزوں میں سرفہرست ہے۔ ریزیسٹنس یا مزاحمت نامی اتحاد کی قیادت میں مظاہرین نے شہر میں داخل ہونے والے راستے بند کر دیے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مختلف گروپوں نے شہر کے مرکز میں دھرنے بھی دیے۔ تاہم اے ایف ڈی کے زیادہ تر مندوبین کانفرنس سینٹر تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور اجلاس مقررہ وقت پر شروع ہو گیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی احتجاج زیادہ تر پرامن رہا تاہم مظاہرین اور اجلاس کی سیکوریٹی پر مامور ہزاروں پولیس اہلکاروں کے درمیان معمولی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ جرمن ہفت روزہ ڈیئر اشپیگل نے پولیس کی داخلی دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حکام کو توقع تھی کہ تقریباً 2,500 مظاہرین تشدد کی تیاری کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوں گے۔
جرمنی میں اے ایف ڈی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے بہت سے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نازی ماضی کے باعث بہت سے جرمن شہری انتہا پسند دائیں بازو کی سیاست کے خلاف کھڑا ہونا اپنی تاریخی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔