جسٹس ترویدی نے خود کو بلقیس کیس سے الگ کرلیا

   

نئی دہلی: گجرات فسادات کی متاثرہ بلقیس بانو نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ بلقیس بانو نے 13 مئی کو آنے والے عدالتی حکم پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کی جج جسٹس بیلہ ایم ترویدی نے عصمت دری اور قتل کیس کے 11 قصورواروں کی قبل از وقت رہائی کو چیلنج کرنے والی بلقیس بانو کی درخواست کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ترویدی کے کیس سے دستبرداری کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔جانکاری کے مطابق جیسے ہی منگل کو جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس بیلا ترویدی کی بنچ میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس رستوگی نے کہا کہ ان کی بہن جسٹس ترویدی اس معاملے کی سماعت نہیں کرنا چاہتیں۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس رستوگی کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کو ایک ایسی بنچ کے سامنے درج کرنے کا حکم دیا جس میں دونوں میں سے کوئی بھی جج نہیں ہے۔ تاہم بنچ نے جسٹس ترویدی کے کیس سے الگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔قابل ذکر ہے کہ بلقیس بانو نے سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی ہیں۔ پہلی درخواست میں، اس نے مجرم کی درخواست پر عدالت عظمیٰ کے 13 مئی 2022 کے حکم پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔