جموں :تین علماء کرام گرفتار، علیحدگی پسندی کا الزام

   

سرینگر۔جموں وکشمیر میں کچھ علما دین کی گرفتاری ہوئی ہے۔ ان پر شدت پسندی اور علاحدگی پسندی کو ہوا دینے کا الزام ہے۔ پولیس نے 3علمائے دین مولانا عبدالرشید دائودی، مولانا مشتاق احمد ویری اور عبدالمجید ڈار المدنی کو گرفتار کیا ہے۔کشمیری میڈیا کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اس پرافسوس ظاہر کیاہے۔ ادھر جموں اور کشمیر کے شوپیاں ضلع میں پولیس نے ہفتہ کے روز سرجن برکاتی کو گرفتار کیا۔ یہ واقعہ دوسرے مذہبی مبلغین کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے تین دن بعد عمل میں آیا۔برکاتی کو جولائی 2016 میں حزب المجاہدین کے پوسٹر بوائے برہان وانی کی ہلاکت کے تناظر میں ملک مخالف اور دہشت گردی حامی تقریریں کرنے کی وجہ سے ‘آزادی چاچا’ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انہیں حال ہی میں پی ایس اے کے تحت چار سال کی نظربندی کے بعد رہا کیا گیا تھا۔اس سے قبل دو دیگر علماء کرام مشتاق احمد ویری اور عبدالرشید داؤدی پرپی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا تھا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا الزام ہے کہ ان بنیاد پرست مبلغین نے نوجوانوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرکے ریاست کے خلاف اور دہشت گردی کے حق میں جذبات کو ہوا دی ہے۔