جموں وکشمیر اور لداخ کے اثاثوں کی تقسیم کیلئے کمیٹی قائم

   

نئی دہلی ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت کی جانب سے مرکزی زیرانتظام علاقے جموں کشمیر اور لداخ کے درمیان اثاثے جات اور واجبات کی تقسیم کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جوکہ 31 اکٹوبر 2019ء میں وجود میں آیا ہے۔ اس کمیٹی میں پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی داخلی امور کے اعلیٰ عہدیدار جس کی قیادت ہم سکریٹری اجئے کمار بھلا کریں گے۔ اس کمیٹی کو دستور کی دفعہ 34 برائے جموں کشمیر کے تحت تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت مرکزی زیرانتظام علاقہ جموں کشمیر اور لداخ کے درمیان اثاثہ جات اور واجبات کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ اس کمیٹی کی قیادت کانگریس قائد آنند شرما کریں گے۔ 14 ویں فینانس کمیشن جوکہ جموں کشمیر اور لداخ کے درمیان 70 فیصد 38 فیصد کے حساب سے مالی سال 2019-20ء کے بقیہ 5 مہینے کیلئے ہوگا۔ جموں کشمیر اور لداخ کے سرکاری ملازمین کیلئے تمام ساتویں مرکزی پے کمیشن کے الاونس منظور کئے گئے ہیں۔ قبل ازیں اس کمیٹی نے سابق سکریٹری برائے دفاع سنجے مشرا، سابق آئی ایس آفیسر ارون گوئل اور انڈین سٹیزن آڈٹ سرویس کے سابق آفیسر گری راج پرشاد شامل تھے۔ واضح رہیکہ ملکیت کی تقسیم میں اسلحہ، پولیس دستہ کیلئے گولہ بارود، گاڑیوں کی تقسیم اور بنیادی ڈھانچے اور دوسرے وسائل کا تقابلی تقسیم شامل ہے۔ اسی طرح سے دیگر ریاستی محکموں کی ملکیتی تقسیم جیسے خزانہ، مالیات، برقی ڈیولپمنٹ، صحت دیکھ بھال، تعلیم، سماجی فلاح، دیہی ترقی، عوامی امور اور صیاحتی امور کی تقسیم آبادی کے تناسب سے ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ قانونی طور پر مرکز کے ماتحت ریاستوں کے وجود میں آنے سے پہلے ہی یہ تمام کام مکمل ہوجانا چاہئے۔ تاہم اب اس پر عمل کیلئے باضابطہ طور پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

انعامی قتل اور عصمت دری کاملزم سچن جاٹو زخمی
اٹاوہ، 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں ضلع اٹاوہ کے جسونت نگر علاقے میں جلپولکھرا گاؤں کے پاس ہوئے پولیس تصادم میں 25 ہزار کا انعامی قتل اور عصمت دری کا ملزم زخمی ہو گیا ، جسے گرفتار کر لیا ہے ۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ سنتوش کمار مشرا نے جمعہ کے روز یہاں یہ اطلاع دی ۔ انہوں نے بتایا کہ 7نومبر کو جسونت نگر علاقے کے دھروار گاؤں میں شادی کی تقریب سے سچن جاٹو نامی نوجوان ایک نو سالہ بچی کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور آبروریزی کے بعد اس نے اس کا قتل کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں سچن جاٹو کے خلاف دفعہ 302،376 اور پاسکو ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا ۔ واقعہ کے بعد سے وہ فرار ہو گیا تھا اور اس کی گرفتاری کے لئے 25 ہزار کے انعام کا اعلان کیاگیا تھا ۔ خود کو محاصر ے میں دیکھ کر وہ آگرہ۔کانپور ہائی وے پر بھاگنے لگا ۔ پولیس نے اسے خود سپردگی کے لئے کہا لیکن اس نے پولیس پر تمچے سے گولی چلانی شروع کی۔