6 افراد زخمی،علاقہ کو گھیرکر تلاشی مہم ‘ عوام میں خوف کا ماحول‘ ایل جی نے کی مذمت
جموں: جموں کے نروال علاقے میں ہفتے کو دو پر اسرار دھماکوں میں کم سے کم 6 افراد زخمی ہو گئے۔ میڈیا کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس جموں مکیش سنگھ نے ان دھماکوں میں 6 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ وہیں، ریاست کے ایل جی منوج سنہا نے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور متاثرین کے حق میں راحت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ دھماکے دو گاڑیوں میں ہوئے ہیں ۔ زخمیوں کو علاج کیلئے جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا ہے۔ دریں اثنا پولیس کے اعلیٰ عہدیدار حالات کا جائزہ لینے کے لئے جائے وادات پر پہنچ گئے ہیں۔ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نروال دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کے لئے پچاس ہزار روپیہ فی کس مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔منوج سنہا نے کہا ’’اس طرح کی گھناؤنی حرکتیں قصور واروں کی بزدلی اور مایوسی کی مظہر ہیں۔ اس کے خلاف فوری اور ٹھوس اقدام کئے جائیں گے اور قصور واروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے میں کوئی کسر چھوڑی نہیںجائے گی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ زخمیوں کے بہتر علاج کو یقینی بنائے گی اور ان کے کنبوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔واقعے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ پہلا دھماکہ قریب سوا گیارہ بجے ہوا اور اس کے پندرہ منٹ بعد دوسرا دھماکہ ہوا۔ پولیس نے دو دھماکوں کے درمیان 20منٹ کا فرق بتایا ہے ۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب بھارت جوڑ یاترا صوبہ جموں پہنچ گئی ہے اور یوم جمہوریہ کی تقریبات کے انعقاد کے لئے تیاریوں کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ان دھماکوں کے بعد مقامی عوام میں خوف کا ماحول دیکھا گیا۔