کانگریس حکومت تصادم چاہتی ہے یا گلے لگانا چاہتی ہے ، مجلس دونوں کے لیے بھی تیار
حیدرآباد ۔ 21 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ جمہوریت میں کوئی کسی کا ٹھیکیدار نہیں ہوتا ۔ مجلس جنگلوں کا رخ کرلے گی اپنی جان لے لے گی مگر بابری مسجد کو شہید کرنے اور مسلمانوں کا خون کرنے والی بی جے پی کے ساتھ کبھی نہیں جائے گی ۔ چیف منسٹر نے ایک روزہ خصوصی مباحث کی بات کی ہے ۔ مجلس کو چیلنج قبول ہے ۔ اسمبلی میں برقی کے مسئلہ پر پیش کیے گئے وائیٹ پیپر کے مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ان کی تقریر کے دوران مداخلت کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ جب بڑے لوگ بات کررہے ہیں تو بچوں کو درمیان میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے ۔ ان ریمارکس پر کانگریس کے ارکان اسمبلی نے سخت اعتراض کیا تھوڑی دیر کے لیے کانگریس اور مجلس کے درمیان تیکھی نوک جھونک ہوگئی ۔ پرانے شہر میں برقی چوری کے تعلق سے بی جے پی کے ایک قائد نے جو بیان دیا ہے وہی انداز اور زبان میں چیف منسٹر ریونت ریڈی بات کررہے ہیں ۔ میں چیف منسٹر سے وضاحت چاہتا ہوں کہ انہوں نے برقی چوری کی بات کی ہے یا برقی بقایا جات کی بات کی ہے ۔ چیف منسٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ بقایا جات کی بات کی ہے ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ چیف منسٹر نے کئی سیاسی پارٹیاں تبدیل کی ہے ۔ ٹی آر ایس ، تلگو دیشم ، اے بی وی پی ، آر ایس ایس اور پھر کانگریس میں آئے ہیں ۔ وہ سمجھتے تھے انہیں سیاست کا کافی تجربہ ہوگا مگر ان کی باتوں میں سیاسی بصیرت نظر نہیں آرہی ہے ۔ مجلس ایک سیاسی جماعت ہے کسی بھی جماعت کا ہرگز میناریٹی سیل نہیں ہے ۔ کانگریس پارٹی نے مجلس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا ہے ۔ جہاں تک مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کا معاملہ ہے یہ 2004 کے اسمبلی انتخابات کی تاریخ ہے ۔ شاید جب ریونت ریڈی کانگریس میں نہیں تھے اس وقت کہاں تھے وہ تفصیلات میں نہیں جائیں گے ۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے اقلیتوں کی ترقی کے لیے کام کیا ۔ اس وقت ہم نے کانگریس کی تائید کی ۔ اس وقت کانگریس کے ایک قومی قائد مجلس کی تائید کے لیے میرے والد مجلس کے صدر کی قیام گاہ پہونچے اس وقت میرے والد نے مسلم تحفظات کو کانگریس پارٹی کے منشور میں شامل کرنے پر زور دیا ۔ 4 فیصد مسلم تحفظات مجلس کی وجہ سے حاصل ہوا ہے ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ مجلس کسی سے ڈرتی ہے نہ مستقبل میں ڈرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس اگر کام نہیں کرتی تو بار بار کامیاب نہیں ہوتی وہ اسمبلی حلقہ چندرائن گٹہ سے چھٹویں مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں اور ان کی کامیابی کی اکثریت 81 ہزار ووٹ ہیں ۔ مجلس مسلمانوں کی جماعت اور آواز ہے اس کو ختم کرنے کے لیے کئی سازشیں اور منصوبے تیار کئے گئے ۔ لیکن مسلمانوں نے مجلس پر بھروسہ کا اظہار کیا ہے ۔ ہم ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہے ۔ کرن کمار ریڈی نے جیل میں ڈالا میں پانچ مرتبہ جیل جاچکا ہوں ۔ اگر تصادم چاہتے ہو تو ہم تیار ہیں ۔ گلے لگانا چاہتے ہو تو اس کے لیے بھی تیار ہیں ۔ ہم اقتدار کے گریباں کو گھسیٹ سکتے ہیں ۔ تلنگانہ میں ہماری آواز تھی ، ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی ۔ ہم جدوجہد کرتے رہیں گے ۔ پرانے شہر کے مسائل پر سوال کرنا گناہ ہے کیا ؟ میں بحیثیت عوامی منتخب نمائندہ پرانے شہر اور مسلمانوں کے مسائل کو اٹھاتے رہوں گا علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے قبل برقی شعبہ بحران کا شکار تھا ۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں برقی شعبہ کو ترقی دینے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے ۔ 24 گھنٹے بلا وقفہ برقی سربراہ کی گئی ۔ کانگریس پارٹی نے گھریلو صارفین کو 200 یونٹ تک مفت برقی سربراہ کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ کس طرح سربراہ کی جائے گی اس کی وضاحت کریں ۔ ریاست میں 1.82 کروڑ گھریلو صارفین ہیں جنہیں 200 یونٹ برقی سربراہی کے لیے سالانہ 4800 کروڑ روپئے کے اخراجات ہیں ۔ وعدے پر عمل کرنے کے لیے کیا برقی شرحوں میں اضافہ کیا جائے گا یا حکومت سبسیڈی فراہم کرے گی حکومت اس کی وضاحت کرے گی ۔۔ ن