جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی کی جا رہی ہیں

   

مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے ملک میں آپریشن توڑ پھوڑ کاس لسلہ جاری ہے ۔ علاقائی اپوزیشن جماعتوں کا صفایا کرنے کی مہم شروع کردی گئی ہے اور اس کوبہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے یکے بعد دیگرے اپوز یشن جماعتوںکو نشانہ بناتے ہوئے انہیں توڑ پھوڑ کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ ان کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے اکسایا جا رہا ہے اور خود سیاسی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے ۔ اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کیلئے بی جے پی کی جانب سے کئی جماعتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی کی جا رہی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو محض ایک مذاق اور کھلونا بناکر رکھ دیا گیا ہے اور بی جے پی یا حکومت کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ اس کے اقدامات کے نتیجہ میں دنیا بھر میںمثالی سمجھی جانے والی ہماری جمہوریت کا مذاق بنتا چلا جا رہا ہے اور ہماری جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی ہونے لگی ہیں۔ مرکزی حکومت ہو یا بی جے پی کو محض اپنے ایجنڈہ اور سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے کام کیا جا رہا ہے ۔ ویسے تو مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے ہی علاقائی جماعتوں کو نشانہ بنانے کا عمل شروع کردیا گیا تھا تاہم حالیہ عرصہ میں سب سے پہلے عام آدمی پارٹی میں انحراف کروایا گیا ۔ راگھو چڈھا کی قیادت میں سات ارکان راجیہ سبھا عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ پھر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد ترنمول کانگریس کو نشانہ بنایا گیا ۔ ترنمول کے 20 ارکان پارلیمنٹ کو انحراف کیلئے حوصلہ دیا گیا ۔ ساری تیاریاںمرکزی وزیر کی قیامگاہ پر کی گئیں۔ پھر یہ ارکان پارلیمنٹ ایک انتہائی غیر معروف نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ ابھی یہ مسئلہ چل ہی رہا ہے کہ مہاراشٹرا میں پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردی گئی شیوسینا ادھو ٹھاکرے کو دوبارہ نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس کے چھ ارکان پارلیمنٹ اور کچھ ارکان اسمبلی کو بھی انحراف کیلئے اکسایا جا رہا ہے ۔ یہ ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی اپنے فون بند کرچکے ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہوپا رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ وہ بھی دہلی پہونچ رہے ہیں۔
ابھی شیوسینا ادھو ٹھاکرے کا مسئلہ عروج پر ہی ہے کہ اترپردیش میں ریاستی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے دعوی کردیا ہے کہ شیوسینا کے بعد یو پی کی سماجوادی پارٹی کا نمبر آئے گا ۔ سماجوادی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی انحراف کیلئے اکسایا جائے گا ۔ اس میں بغاوت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور پھر اسے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا جائے گا ۔ مرکز میں اقتدار کا جس طرح سے بیجا استعمال کیا جا رہا ہے اس سے جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں اور ملک کی جمہوریت ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے ۔ ملک کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو دھمکایا جا رہا ہے ۔ انہیں خوفزدہ کیا جا رہا ہے ۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا خوف پیدا کیا جا رہا ہے ۔ کارروائیوں کے نام سے ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جا رہا ہے اور پھر انہیں اپنی مرضی کے مطابق انحراف اور بغاوت کیلئے اکساتے ہوئے اپنے سیاسی فائدہ کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ یہ ساری سرگرمیاں ہندوستان جیسی عظیم اور دنیا کی بڑی جمہوریت کیلئے مذاق بن کر رہ گئی ہیں اور اس سے ہماری جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی ہور ہی ہیں۔ جمہوریت کا تحفظ کرنا اور اس کو مستحکم کرنا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے اور سب سے بڑی ذمہ داری حکومت اور برسر اقتدار جماعت کی ہوتی ہے لیکن حکومت اور برسر اقتدار جماعت ہی اس کو کھوکھلا کرنے کی وجہ بن رہی ہیں اور یہ صورتحال قابل تشویش ہے ۔ اس سے ہندوستان میںانتخابی اور جمہوری نظام کمزور ہو کر رہ جائے گا اور انتخابات کا مقصد ختم ہو کر رہ جائے گا ۔
یکے بعد دیگر مختلف جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے جو صورتحال پیدا کی جا رہی ہے وہ انتہائی تشویشناک کہی جاسکتی ہے اور اس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو حرکت میں آنا چاہئے ۔ تمام جماعتوں کو مشترکہ حکمت عملی بناتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ شروع کرنا چائے ۔ انحراف کرنے والے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو قانونی کارروئیوں میں گھسیٹنا چاہئے ۔ عوام میں شعور بیدار کیا جانا چاہئے ۔ عوامی تحریک شروع کی جانی چاہئے ۔ضرورت پڑنے پر عوامی سطح پر سڑکوں پر اترکر احتجاج کیا جانا چاہئے ۔ جتنی خاموشی اختیار کی جائے گی اتنی ہی صورتحال قابو سے باہر ہوتی چلے جائے گی اور جمہوریت کا نقصان ہوتا رہے گا ۔