جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے، تلنگانہ وقف بورڈ میں نیا تنازعہ

   

سابق اسٹانڈنگ کونسل کا فائلس واپس کرنے سے انکار، علحدگی کے باوجود مقدمات میں شمولیت
حیدرآباد ۔4۔نومبر (سیاست نیوز) ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے حکومت کی جانب سے عدالتوں میں اسٹانڈنگ کونسلس کا تقرر کیا جاتا ہے تاکہ مقدمات کی موثر پیروی کرتے ہوئے غیر مجاز قابضین کے دعویٰ کو غلط ثابت کریں۔ حالیہ عرصہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کو ہائی کورٹ نے کئی اہم جائیدادوں کے مقدمات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مقدمات میں شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے پر پتہ چلا کہ اہم مقدمات کی ذمہ داری ہائی کورٹ میں جس اسٹانڈنگ کونسل کو دی گئی ہے ، وہ اپنے ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔ کئی اہم جائیدادوں اور اراضیات سے محرومی کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ نے طویل عرصہ سے خدمات انجام دینے والے اسٹانڈنگ کونسل ابو اکرم کو ذمہ داری سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹانڈنگ کونسل کی حیثیت سے ابو اکرم کی میعاد 2021 میں ختم ہوگئی لیکن وقف بورڈ کی منظوری کے بغیر وہ ہائی کورٹ میں اسٹانڈنگ کونسل کے طور پر پیش ہورہے ہیں۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا جن پر بھروسہ کیا گیا تھا ، اگر وہی اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہیں تو پھر کون جائیدادوں کو بچا پائے گا ۔ وقف بورڈ کو اسٹانڈنگ کونسل کی تبدیلی کا اختیار حاصل ہے اور سابق میں کئی وکلاء کو تبدیل کیا گیا ۔ اگر کوئی وکیل جبراً ذمہ داری پر برقرار رہنا چاہے تو اس کے درپردہ مقاصد کے بارے میں شبہات پیدا ہونا ضروری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ سابق اسٹانڈنگ کونسل نے وقف بورڈ کی جانب سے وکالت کی منظوری کے بغیر ہی بعض مقدمات میں پیروی کی ۔ صدرنشین وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی نے ارکان سے مشاورت کے بعد ابو اکرم کو وقف بورڈ کے پیانل سے علحدہ کردیا اور انہیں ہدایت دی گئی کہ تمام وقف فائلوں کو حوالے کردیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ کیل نے فائلوں کو حوالے کرنے سے انکار کردیا اور فیس کی مکمل ادائیگی پر اصرار کر رہے ہیں۔ وقف بورڈ میں اہم فیصلوں کی عدم موجودگی کے سبب بورڈ کو اہم جائیدادوں کے سلسلہ میں فیصلہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سابق اسٹانڈنگ کونسل کے پاس گٹلہ بیگم پیٹ ، آلور اور دیگر اہم جائیدادوں کی فائلیں ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے بارہا توجہ دہانی کے باوجود فائلوں کو واپس کرنے سے انکار حکومت کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں مداخلت کرتے ہوئے اہم فائلوں کی بازیابی کو یقینی بنانا چاہئے ۔ 1