جناب عامر علی خاں کی طویل سیاسی و سماجی خدمات

   

کانگریس کی مضبوطی کیلئے نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست کو ایم ایل سی کا عہدہ دیا جائے: جلیل احمد فردوس

کوہیر 24 ستمبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) محمد جلیل احمد الفردوس نائب صدر جامع مسجد کمیٹی کوہیر نے اپنے ایک صحافتی بیان میں بتایا کہ 2023 کہ ریاستی عام انتخابات میںکانگریس پارٹی کو مضبوط بنانے اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے کے اعتراف میں روزنامہ ‘سیاست’ کے نیوز ایڈیٹر عامر علی خان کو قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کا رکن نامزد کرنے اور ریاستی کابینہ میں مناسب نمائندگی دینے کا شدید مطالبہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ عامر علی خان اور کودنڈا رام ریڈی کو ایم ایل سی کے طور پر ایک ساتھ نامزد کیا گیا تھا لیکن عامر علی خان کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ کودنڈا رام ریڈی کو نامزد کیا گیا ہے کیا یہ سیکولر کانگریس ہے اس اقدام سے مسلمانوں کی بالخصوص صحافتی برادری کی دل آزاری ہو رہی ہے انہوں نے کہا ریاست تلنگانہ میں تقریبا 50 لاکھ مسلم ابادی رہتی ہے اس کے مطابق کابینہ میں کم سے کم دو وزراء تو ہونا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دوبارہ عامر علی خان کو ایم ایل سی نامزد کریں انہوں نے کانگریس ہائی کمان سے یہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عامر علی خان اور ان کا خاندان گزشتہ کئی دہائیوں سے کانگریس پارٹی کے نظریات کی ترسیل اور اسے عوامی سطح پر مضبوط کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عامر علی خان نے نہ صرف پارٹی کا پیغام عام لوگوں تک پہنچایا بلکہ غریب اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بنیادی مسائل کے حل میں بھی ہمیشہ اہم اور مثالی کردار ادا کیا ہیجلیل احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ملک اور ریاست میں کانگریس حکومتوں نے تعلیم، صحت اور صنعت جیسے اہم شعبوں میں تاریخی ترقیاتی کام اور فلاحی اسکیمات شروع کی ہیں تعلیم کو غریب عوام کی رسائی میں لانے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں عامر علی خان نے ایک کلیدی پل کا کام کیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والی اس فعال شخصیت کی خدمات کا اعتراف کیا جائے انہوں نے کانگریس پارٹی کے سینئر رہنماؤں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اور تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی سے پرزور اپیل کی کہ وہ عامر علی خان کی طویل سیاسی و سماجی خدمات پر ہمدردانہ غور کریں اور انہیں ایم ایل سی کے عہدے کے ساتھ ساتھ کابینہ میں بھی شمولیت کا موقع فراہم کریں۔