مسلم سماج نشانہ پر، حیدرآباد کانکلیو کا ملک میں شور ہوگا، سلمان خورشید، محمد ادیب کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔20اگست(سیاست نیوز) انڈین مسلم فار سیول رائٹس( آئی سی ایم آر) کے زیر اہتمام ’’ آئیڈیا آف انڈیا‘‘ کے عنوان سے ملک بھر میں جاری تحریک کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے سابق مرکزی وزیر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل جناب سلمان خورشید نے کہاکہ ملک کے سکیولر تانے بانے کو تار تار کیاجارہا ہے ‘ اقلیتوں بالخصوص مسلم سماج نشانے پر ہے‘ نفرت کا ماحول ‘ بدامنی میںملک میںچاروں طرف پھیلائی جارہی ہے ‘ سرکاری اداروں کابیجا استعمال کیاجارہا ہے جبکہ بیروزگاری میںاضافہ ہورہا ہے اور عام آدمی کی آمدنی میں کمی کے ساتھ ساتھ مہنگائی میںبے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے اور انتہائی فرقہ پرست ماحول سے ملک کی فضاء کو مکدر کیا جارہا ہے۔سلمان خورشید نے کہا کہ صرف جھنڈا لہرانے سے مسائل کا حل نہیںہوسکتا ہے اس کے لئے دل سے جھنڈے اور اہمیت اور افادیت کو سمجھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ان سب کے خلاف سیاسی جماعتوں کا ایک اپنا فیصلہ اور نظریہ ہے جس پر وہ کام کریں گے لیکن عوام کی طرف سے بھی ان چیزوں پر سوال اٹھنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اکثریتی یا اقلیتی طبقے سے کوئی نکل کر آگے آئے گا او ران تمام باتوں سے ملک کو واقف کروایا گیا بول کر خاموش ہرگزنہیںبیٹھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایسا ہوتا تو آج ہمیں ملک جن حالات سے دوچار ہے ‘ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیاجارہا ہے اس کے متعلق کوئی تو آگے آتے اور ان تمام چیزوں کے خلاف ایک منظم تحریک کی شروعات کرتے مگر ایسا نہیںہوا ‘ ہم ہی کواس کی شروعات کرنی پڑی ہے اور ہم اس کام کو موثر انداز میںانجام دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جناب سلمان خورشید نے بتایاکہ آئی سی ایم آر کا یہ تیسرا اجلاس ہے جو حیدرآباد میں منعقد کیاجارہا ہے اس کے بعد کرناٹک ‘ تاملناڈو‘ کیرالا‘ راجستھان بھی جائیں گے اوروہاں پر ہمارے مقصد وا رمنشاء کو عوام کے سامنے واضح کریں گے۔ سلمان خورشید نے کہاکہ دانشواروں کی یہ سونچ ہے اوراس کو عملی جامعہ آئی سی ایم آر نے پہنایاہے اور ہمیں یقین ہے کہ ملک جو بھی دشواریوں کا سامنا کررہا ہے وہ ختم ہوں گی کیونکہ عوام ایک مرتبہ اس سمت سونچنے لگے اور عوام میںشعو ر بیدار ہوجائے تو یقینا تبدیلی آئے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اس کام کے لئے ہم نے ایک نیا پلیٹ فارم تشکیل دیاہے اور ہم ملک بھر میںگھوم گھوم کران تمام امور کو عوام کے سامنے واضح کریں گے جو ملک میںدشواریوں کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا محمد ادیب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دی آئیڈیا آف انڈیا کے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ حیدرآباد کے ایم جے کالج میںمنعقد ہونے والے کانکلیو کا شور سارے ملک میںسنائی دے گا۔ انہوں نے کہاکہ قومی تعمیر میںجو ذمہ داری ملی اداروں او رجماعتوں پر عائد تھی اس کو پورا کرنے میں ملی جماعتیں یقینا ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان کنبہ کے کھلے آسمان کے نیچے آج کھڑے رہنے کی وجہہ سے ملی یاسیاسی جماعتیں ہو وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم یافتہ معروف طبقہ ملی جماعتو ں کے لئے کبھی قابل قبول نہیںرہا ہے اس کی وجہہ سے دانشوروں کا رابطہ ملی جماعتوں سے منقطع ہوگیا اور جو موجودہ صورتحال کا سامنا مسلمانوں کو کرنا پڑرہا ہے یہ اسی کی وجہہ سے ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اس کے بعد جو خلاء مسلم سماج میںپیدا ہوا ہے اس کو دور کرنے کی کوشش کی سونچ مجھے حیدرآباد سے ملی او رمیںیہاں سے اس سونچ کے ساتھ روانہ ہوا اور پھر دوبارہ آپ کے درمیا ن میںانڈیا مسلم فار سیول رائٹس کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوا ہوں۔ سابق چیرمن آبی وسائل حکومت ہند جناب مسعود رضوی‘ سپریم کورٹ کے وکیل فوضیل ایوبی کے علاوہ سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سید عزیز پاشاہ او ردیگر نے بھی خطاب کیا۔ کاروائی صدر نہرو ایجوکیشن سوسائٹی ‘ راجستھان ڈاکٹر اعظم بیگ نے چلائی ۔