43 لاکھ ووٹوں کو منسوخ کیا گیا، 38 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کی جارہی ہے
حیدرآباد۔ 22 اگست (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامعہ نظر ثانی SIR عمل کے تحت ووٹرس کے گھروں تک پہنچنے اور نوٹس تقسیم کرنے کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اضلاع، حیدرآباد، رنگاریڈی، میڑچل ملکاجگیری پر مشتمل 28 اسمبلی حلقوں میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے دوران انتہائی سنسنی خیز اور چونکادینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں ووٹ منسوخ ہونے کے بعد اب باقی آبادی کے ایک بڑے حصہ کو نوٹس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈاٹا کے مطابق ان تینوں اضلاع میں 6.48 لاکھ نوٹس چھپ کر تیار ہوچکے ہیں جنہیں بوتھ لیول آفیسرس کے ذریعہ گھر گھر پہنچ کر تقسم کیا جارہا ہے۔ تاہم ضلع حیدرآباد نوٹس کی چھپائی اور تقسیم کے معاملہ میں تمام اضلاع میں سب سے آخری نمبر پر ہے۔ شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں تقریباً 60 فیصد ووٹرس کو نوٹسیں بھیجی جارہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ اینومریشن فارم کی خانہ پوری کے دوران کثیر تعداد میں ووٹرس نے SIR 2002 کی ماسٹر ووٹر لسٹ کے مطابق اپنے والدین (والد یا والدہ) کے ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر لازمی دستاویزات کی تفصیلات منسلک نہیں کئے تھے جس کی وجہ سے ڈاٹا کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل کے گنجان اور بڑے اسمبلی حلقوں میں نوٹس حاصل کرنے والے ووٹرس کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسمبلی حلقہ قطب اللہ پور میں 3.8 لاکھ، اسمبلی حلقہ شیر لنگم پلی میں 3.4 لاکھ، اسمبلی حلقہ راجندر نگر میں 3.3 لاکھ، اسمبلی حلقہ میڑچل میں 2.8 لاکھ، اسمبلی حلقہ اُپل میں 2.6 لاکھ، اسمبلی حلقہ کوکٹ پلی میں 2.5 لاکھ، اسمبلی حلقہ ملکاجگیری میں 2.20 لاکھ، اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز میں 1.16 لاکھ اور اسمبلی حلقہ کاروان میں ایک لاکھ شامل ہیں۔ عہدیداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بی ایل اوز کی جانب سے دستک دینے پر نوٹس حاصل کریں اور مقررہ مدت کے اندر ضروری ثبوت اور دستاویزات جمع کراتے ہوئے اپنے ووٹ کے اندراج کو یقینی بنائیں۔ تینوں اضلاع میں جملہ 1.14 کروڑ ووٹرس میں سے 38 لاکھ ووٹرس کو نوٹس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ 43 لاکھ ووٹوں کو ووٹر لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔ ان میں 71 لاکھ ووٹرس ایسے ہیں جنہیں نوٹس نہیں ملے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال 6 لاکھ 48 ہزار نوٹس شائع کئے گئے ہیں۔ 2؍F a/b/