24 گھنٹے میں پیشی ضروری‘فرق قائم کرنا آئینی طور پر قابل قبول نہیں
نئی دہلی ۔5؍نومبر ( ایجنسیز )گرفتاری اور حراست سے متعلق سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے گرفتاری اور حراست کے درمیان کیے جانے والے فرق کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی 24 گھنٹے کی حد باضابطہ گرفتاری سے نہیں بلکہ حراست میں لیے جانے کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حراست اور گرفتاری کے درمیان کوئی مصنوعی فرق قائم کرنے کی کوشش آئینی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔جسٹس اجّول بھوئیاں اور جسٹس اتل ایس چندْرکر کی بنچ نے کہا کہ یہ ماننا کہ 24 گھنٹے کی مدت باضابطہ گرفتاری سے شروع ہوتی ہے، آئین کے آرٹیکل 22(2) اور بی این ایس ایس کی دفعہ 56 کے آئینی التزامات کے خلاف ہے۔ آرٹیکل 22(2) کے تحت کسی شخص کو گرفتار کرنے سے پہلے کی گئی پوچھ تاچھ یا تفتیش میں صرف ہونے والے وقت کو مجموعی وقت کی حد سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ایسا کرنا آرٹیکل 22 کی شق (2) کے دائرے سے باہر ہے۔عدالت نے کہا کہ آئین میں صرف ایک استثناء دیا گیا ہے اور وہ ہے گرفتاری کی جگہ سے مجسٹریٹ کی عدالت تک پہنچنے میں لگنے والا وقت۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس لیے یہ دلیل کہ آرٹیکل 22 کی شق (2) کے تحت 24 گھنٹے کی مدت تلاشی اور ضبطی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یا گرفتاری کرنے والے افسر کے ذریعے درج کیے گئے گرفتاری کے وقت سے شروع ہوتی ہے‘ یہ نہ صرف قانونی طور پر غلط ہے بلکہ مکمل طور پر غیر آئینی بھی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس نظریہ سے اختلاف کیا کہ کچھ وقت کیلئے حراست میں رکھنا گرفتاری نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بنیادی حقوق کو کچھ وقت کیلئے بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے اوڈیشہ ہائی کورٹ کے آریہ من پٹنائک معاملے، کیرالا ہائی کورٹ کے ارون کے تھامس معاملے اور مدراس ہائی کورٹ کے کنّن معاملے میں دیے گئے فیصلوں کو مسترد کر دیا۔ ان فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ گرفتاری سے قبل حراست میں گزارے گئے وقت کو آئین کی دفعہ 22 کے تحت 24 گھنٹے کی مدت میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ یہ فیصلے آئین کی دفعہ 22(2) کے تحت درست قانونی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔