دامودر راج نرسمہا کمیٹی سرگرم، کونڈا سریکھا اور مالتی ریڈی کے نام زیر غور
حیدرآباد۔13۔اگست (سیاست نیوز) حضور آباد کے ضمنی چناؤ میں کانگریس پارٹی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ایسے امیدوار کی تلاش کر رہی ہے جو ٹی آر ایس اور بی جے پی سے بہتر مقابلہ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ حضور آباد میں دلت اور پسماندہ طبقات کی قابل لحاظ آبادی کے پیش نظر اہم سیاسی جماعتیں پسماندہ طبقات کے رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کرچکی ہیں۔ ٹی آر ایس نے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کردیا جبکہ بی جے پی کے امکانی امیدوار ایٹالہ راجندر ہیں۔ کانگریس نے سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ امیدوار کے نام کو قطعیت دی جاسکے۔ الیکشن کمیشن نے اگرچہ ضمنی چناؤ کا اعلامیہ جاری نہیں کیا لیکن دیگر پارٹیوں کی طرح کانگریس بھی چاہتی ہے کہ امیدوار کو قطعیت دے کر حلقہ میں متحرک کردیا جائے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے پی کوشک ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد مقامی سطح پر کانگریس کے لئے کوئی مضبوط قائد دستیاب نہیں ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس پارٹی سابق وزیر ایم دامودر ریڈی کی بیوہ اور سابق رکن اسمبلی کونڈا سریکھا کے ناموں پر غور کر رہی ہے۔ دامودر ریڈی کی بیوہ مالتی ریڈی دلت کرسچن طبقہ سے تعلق رکھتی ہے ، لہذا کانگریس کو امید ہے کہ وہ دلت اور پسماندہ طقات کے رائے دہندوں پر اثر انداز ہوپائیں گی۔ آنجہانی دامودر ریڈی کملاپور اسمبلی حلقہ میں کافی اثر رکھتے تھے جو بعد میں حلقوں کی حد بندی کے بعد حضور آباد میں تبدیل ہوگیا، وہ تلگو دیشم دور میں وزیر رہے۔ ان کے دیہانت کے بعد فرزند ایم کیشپ ریڈی کانگریس پارٹی میں سرگرم ہوچکے ہیں اور وہ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے بااعتماد ساتھی بتائے جاتے ہیں۔ کانگریس کو ایسے امیدوار کا انتخاب کرنا ہے جو لمحہ آخر میں ٹی آر ایس کے لالچ کا شکار نہ ہوسکے ۔ ورنگل سے تعلق رکھنے والی سابق وزیر کونڈا سریکھا کا نام بھی کانگریس حلقوں میں زیر گشت ہے۔ وہ پدماشالی طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں اور اس طبقہ کے رائے دہندوں کی خاصی تعداد حضور آباد میں موجود ہے۔ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت میں وہ وزیر رہ چکی ہیں۔ کانگریس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن کی اجرائی کے بعد امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے گا ۔