حماس وفد کے قاہرہ مذاکرات، اسلحہ اور غزہ کے ملازمین پر اہم انکشافات

   

قاہرہ ۔ 28 جولائی (ایجنسیز) حماس کا مذاکراتی وفد منگل کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے، جہاں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر پیشرفت کیلئے مشاورت کی جائے گی۔ اس دوران مذاکرات کے دو انتہائی حساس اور پیچیدہ موضوعات، یعنی فلسطینی گروپس کے اسلحے کا مستقبل اور غزہ میں حماس کے دور کے سرکاری ملازمین کے معاملات پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔وفد کی مصری حکام، مصر، قطر اور ترکی کے ثالثوں کے علاوہ مختلف فلسطینی گروپس اور سیاسی قوتوں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا، شرم الشیخ میں طے پانے والے تمام معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا، غزہ کی انسانی صورتحال بہتر بنانا اور منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔العربیہ اور الحدث کو ذرائع نے بتایا کہ غزہ میں حماس کی قیادت نے بیرون ملک موجود تنظیمی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ثالثوں کی جانب سے پیش کئے گئے تازہ مسودے سے اتفاق کرتی ہے، جس میں غزہ کی انتظامی کمیٹی کے ملازمین اور فلسطینی گروپس کے اسلحے کے مستقبل سے متعلق شقیں شامل ہیں۔یہ دونوں موضوعات برسوں سے مذاکرات کے سب سے پیچیدہ اور حساس نکات سمجھے جاتے رہے ہیں، کیونکہ ان کا تعلق سیاسی، سیکیورٹی اور مالی معاملات سے ہے۔
ملازمین کے معاملے میں ان افراد کی ملازمتوں کو باقاعدہ بنانے کی تجویز شامل ہے ،جو 2007 میں حماس کے غزہ پر کنٹرول کے بعد سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے۔اس میں سول اور عسکری ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی، انہیں مستقبل کی کسی فلسطینی انتظامیہ میں ضم کرنے کے طریقہ کار اور اس کے مالی اخراجات برداشت کرنے والے فریق کا تعین بھی شامل ہے۔دوسری جانب آٹھویں شق غزہ میں فلسطینی گروپس کے اسلحے کے مستقبل سے متعلق ہے، جس میں عبوری مرحلے کے دوران مزاحمتی ہتھیاروں کی حیثیت، نئی سیکیورٹی فورسز کے اختیارات اور سول انتظامیہ یا کمیٹی اور مسلح ونگز کے درمیان تعلقات کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔