حکومت تلنگانہ کو مسلمانوں کے مسائل حل کرنے یا تحفظات فراہم کرنے میں عدم دلچسپی

   

10 فیصد تحفظات کا معاملہ جوں کا توں برقرار ، دیگر طبقات کو تحفظات فراہمی میں عجلت پسندی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔9۔نومبر۔حکومت تلنگانہ کو مسلمانوں کے مسائل کے حل یا انہیں حاصل تحفظات میں اضافہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی ریاست میں اقلیتوں کی بہبود پر حکومت کی توجہ ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 16اپریل 2017کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے مسلم تحفظات کو 4 فیصد سے بڑھا کر12 فیصد کرنے اور ایس ٹی تحفظات کو6 فیصد سے بڑھاکر اسے 10 فیصد کرنے کی قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کی جانب سے منظوری نہ دیئے جانے کو بنیاد بناتے ہوئے مسلم تحفظات میں اضافہ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جبکہ ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے لئے ریاستی حکومت نے اپنے طور پر قانونی ترمیم کرتے ہوئے ایس۔ٹی تحفظات کو 6 سے بڑھا کراسے 10کرنے کے اقدامات کئے ہیں جبکہ مسلم تحفظات میں اضافہ کا معاملہ اب بھی جوں کا توں برقرار ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے آج ایس ۔ٹی تحفظات میں کئے گئے اضافہ کے سلسلہ میں جاری کردہ احکامات میں ایس ۔ٹی طبقہ کے سرکاری ملازمین و عہدیداروں کو ترقیات کی فراہمی میں بھی تحفظات کی فراہمی کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ ریاستی سطح پر تحفظات کے حامل کسی بھی پسماندہ طبقہ و مسلمانوں کو ترقیات میں تحفظات حاصل نہیں ہیں جبکہ ایس ۔ٹی اور ایس ۔سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو ترقی میں بھی تحفظات کی فراہمی عمل میں لائی جا تی ہے ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے تمل ناڈ و کے طرز پر ریاست میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں تشکیل تلنگانہ سے قبل وعدہ کیا تھا لیکن پہلی معیاد میں اس وعدہ کو پورانہیں کیا گیا بلکہ ریاستی اسمبلی کا خصوصی سیشن طلب کرتے ہوئے اسمبلی میں متفقہ طور پر قرار داد منظور کرتے ہوئے ایس۔ٹی اور مسلم تحفظات میں اضافہ کو منظوری دی تھی لیکن مسلم تحفظات میں اضافہ کا معاملہ اب بھی زیر التواء ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے حضور آباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے اعلان سے قبل ایس ۔ٹی تحفظات میں اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے احکامات جاری کردیئے گئے تھے لیکن مسلم تحفظات میں اضافہ کی قرارداد منظور کرنے پر چیف منسٹر تلنگانہ کی تصویر کو دودھ سے نہلانے والے قائدین کی جانب سے بھی اب تک مسلم تحفظات میں اضافہ کے سلسلہ میں کوئی استفسار نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مسلم سیاسی قائدکی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی استفسار کیا ۔ریاستی حکومت نے ایک ہی ایوان میں ایک ہی وقت پر ایک ہی قرار داد کے ذریعہ مسلمانوں کے تحفظات اور ایس۔ٹی کو حاصل تحفظات میں اضافہ کو منظوری دی تھی لیکن اس ایک قرار داد میں نصف قرار داد پر عمل آوری کی گئی جبکہ مسلمانوں سے متعلق قرار داد کو نظراندازکردیا گیا ہے اس سلسلہ میں عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ قانونی رسہ کشی سے بچنے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کے اقدامات نہیں کئے گئے اور انہیں زیر التواء رکھا گیا ہے جبکہ 6فیصد تحفظات کے ثمرات برسوں سے حاصل کر رہے ایس۔ٹی طبقہ کے تحفظات میں 4 فیصد اضافہ کے لئے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے نہ صرف ان میں اضافہ کے اقدامات کئے بلکہ انہیں ترقیات میں بھی بھی تحفظات کی فراہمی کو منظوری دینے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ 4فیصد مسلم تحفظات کے ثمرات سے مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے پسماندہ شہری 2007 سے استفادہ کر رہے ہیں اور ان کے 4فیصد تحفظات کو بڑھا کر12 فیصد کرنے کا وعدہ اب تک وفاء نہیں کیا گیا جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی میں موجود مسلم قائدین چیف منسٹر تلنگانہ ’’کے چندر شیکھر راؤ‘‘ کو ملک کے نمبر ون سیکولر چیف منسٹر کے طور پر پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے لیکن عملی طور پر حکومت کے دلتوں اور مسلمانوں کے متعلق اختیار کردہ رویہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی حکومت بھی ایک مخصوص طبقہ کی خوش آمد میں مصروف ہے اور اسے ریاست کے 12 فیصد مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سرکردہ مسلم شہریوں کا احساس ہے کہ ریاستی حکومت پر ٹی آر ایس مسلم قائدین اور ایوان نمائندگان میں مسلمانو ںکی نمائندگی کرنے والوں کی جانب سے کی جانے والی نمائندگیوں کو نظراندازکیا جا رہاہے ۔ مسلم تنظیموں کے ذمہ دار جو تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید اور حکومت تلنگانہ کے اقدامات پر واہ واہ کرتے ہیں ان کی جانب سے مسلم تحفظات کے معاملہ میں اختیار کردہ ریاستی حکومت کے موقف پر مکمل خاموشی اختیار کی جا رہی ہے جو کہ ریاست کے مسلمانوں کے لئے المیہ سے کم نہیں ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایس۔ٹی طبقہ کے تحفظات میں اضافہ اور اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو ترقیات میں بھی تحفظات فراہم کئے جانے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی مسلمانوں کو پوری طرح سے نظرانداز کرتے ہوئے انہیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔