حیدرآباد 14 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ گورنر شیو پرتاپ شکلا، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے آج سالار جنگ میوزیم کی پلاٹینم جوبلی تقاریب میں شرکت کی۔ سالار جنگ سوّم کی یوم پیدائش کے موقع پر پلاٹینم جوبلی تقاریب کا اہتمام کیا گیا جس میں میوزیم کی ترقی اور اُسے توسیع دینے کی ضرورت ظاہر کی گئی۔ گورنر شیو پرتاپ شکلا نے سالار جنگ کی جانب سے دنیا بھر سے نوادرات اکٹھا کرنے کی ستائش کی اور کہاکہ اِس ورثہ کا تحفظ ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے سالار جنگ میوزیم کو توسیع اور ترقیاتی منصوبہ پر عمل آوری کی تائید کی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ موسیٰ ندی کے کنارے کئی تاریخی عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں سالار جنگ میوزیم، ہائی کورٹ اور دیگر عمارتیں شامل ہیں۔ تلنگانہ حکومت تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور علاقے کو سیاحتی اور تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لئے موسیٰ ندی ترقیاتی منصوبہ پر عمل کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سالار جنگ سوّم کے 137 ویں یوم پیدائش کے موقع پر پلاٹینم جوبلی تقاریب کا انعقاد عمل میں آرہا ہے جس کے تحت میوزیم کا توسیعی منصوبہ بھی شامل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سالار جنگ سوّم نے دنیا بھر سے 43000 نوادرات کو اکٹھا کیا جو دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے ہر کسی کو کام کرنا چاہئے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ میوزیم میں مختلف گوشوں کے تحت دنیا بھر کے نوادرات اور قیمتی سامان اور کتابوں کو مشاہدہ کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سالار جنگ میوزیم صرف ایک عمارت نہیں بلکہ اپنے اندر ایک تاریخ کو سموئے ہوئے ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہاکہ حیدرآباد کی شناخت صرف چارمینار نہیں بلکہ سائبر ٹاورس بھی دنیا بھر میں حیدرآباد کی شناخت بن چکے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی، لائف سائنسیس اور دیگر شعبہ جات میں حیدرآباد نے غیرمعمولی ترقی کی ہے۔ چارمینار، گولکنڈہ، گنبدان قطب شاہی، چومحلہ پیالس، فلک نما پیالس اور دیگر تاریخی عمارتیں پرانے شہر کی تہذیب و ثقافت کا مظہر ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ سیاحت کے فروغ کے لئے اُردو، ہندی، تلگو اور انگلش میں میٹریل تیار کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ریاست بھر میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لئے قدم اُٹھا رہی ہے۔ میوزیم کی ترقی کے لئے حکومت کی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ پونم پربھاکر نے میوزیم کو توسیع دینے کی تائید کی۔ اِس موقع پر نواب احترام علی خاں اور سالار جنگ خاندان کے دیگر اراکین موجود تھے۔V/1