حیدرآباد کے پرانے شہر میں میٹرو ریل کی تعمیر کیلئے صرف 55 جائیدادیں حاصل کرنا باقی

   

حصول اراضی کا عمل آخری مرحلے میں پہنچ گیا، سنگل ٹنڈر کی وجہ سے GC کی تقرری منسوخ، دوبارہ ٹنڈرس کی تیاری
حیدرآباد۔ 2 ستمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری کاموں میں تیزی پیدا ہوگئی ہے۔ ایم جی بی ایس تا چندرائن گٹہ 7.5 کیلو میٹر طویل کوریڈور۔6 کے تحت اراضی و جائیداد کے حصول کا عمل اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کے عہدیداروں کے مطابق اگر باقی 55 جائیدادیں حاصل کرلی جاتی ہیں تو راہداری کی تعمیر کا راستہ مکمل طور پر ہموار ہو جائے گا۔ یہ پراجکٹ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے جوائنٹ وینچر کے تحت 2,741 کروڑ روپے کی بھاری لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے ویژن کے تحت ناگول تا شمس آباد ایئرپورٹ روٹ کے ساتھ ساتھ اولڈ سٹی کوریڈور پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اولڈ سٹی کوریڈور کی تعمیر کے لئے جملہ 888 متاثرہ جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اب تک 833 جائیدادیں کامیابی کے ساتھ حاصل کی جاچکی ہیں اور صرف 55 جائیدادیں حاصل کرنا باقی ہے، جسے حاصل کرنے کے لئے ستمبر کے اواخر تک مکمل کرنے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ اصل کی گئی جائیدادوں میں 60 فیصد تجارتی اور 40 فیصد رہائشی عمارتیں اور مکانات شامل ہیں۔ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ہی پوکلینز اور بلڈوزرس کے ذریعہ ملبہ ہٹانے اور انہدامی کارروائی کی جارہی ہے۔ برقی کے کھمبوں اور پائپ لائنوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے ٹریفک میں بلا تعطل نقل و حرکت کے لئے تمام محکموں کے عہدیدار موقع پر نگرانی کررہے ہیں۔ ایک طرف جہاں حصول اراضی اور انہدامی کارروائیاں تیز ہیں وہی انتظامی سطح پر ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ جون میں پرانے شہر کوریڈور کے لئے جنرل کنسلٹنٹ کی تقرری سے متعلق تکنیکی و مالیاتی تجاویز طلب کی گئی تھی۔ تاہم ٹنڈر کے عمل میں صرف ایک کمپنی کی جانب سے کم قیمت بولی پیش کرنے کے باعث عہدیداروں نے اس سنگل ٹنڈر کو منسوخ کردیا ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق مسابقت کو یقینی بنانے کے لئے ایک بار پھر نئے ٹنڈرس طلب کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ متعین کردہ جنرل کنسلٹنٹ پراجکٹ کے تمام ڈیزائین، تکنیکی معلومات، ورک فلو اور انتظامی امور کی ذمہ داری ہوگی۔ تاہم تمام تکنیکی و مالیاتی اختیارات حیدرآباد ایئرپورٹ میٹرو لمیٹیڈ کے پاس رہیں گے اور جی سی کو کام کے لئے 3 ماہ کے اندر ڈیزائن پیش کرکے HAML سے منظوری لینی ہوگی۔ 8 مارچ 2024 کو فلک نما آر ٹی سی احاطہ میں رکھے گئے سنگ بنیاد کے بعد اب ڈی پی آر کی قطعی منظوری اور نئے جی سی کے انتخاب کے ساتھ اس اہم روٹ پر تعمیر نو کا کام بلا تاخیر شروع ہونے کی امید ہے۔ 2؍F m/b/