تالابوں ‘ کنٹوں و سرکاری اراضیات کا تحفظ حیڈرا کے ذمہ ۔ چیف سکریٹری کا اعلی عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد 29 اگسٹ(سیاست نیوز)’حیڈرا ‘ کے استحکام کیلئے حکومت سے جلد درکار عملہ اور عہدیداروں کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی اور 72 ٹیموں کی تیاری کے ذریعہ تالابوں ‘ کنٹوں‘ سرکاری اراضیات و اثاثہ جات کے تحفظ کی ذمہ داری مکمل ’حیدرا‘ کے حوالہ کی گئی ہے۔ چیف سیکریٹری شانتی کماری نے آج چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ہدایت پرمتعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ںنے بتایا کہ دونوں شہروں و نواحی علاقوں میں جاری ’حیڈرا‘ کی کاروائیوں پر اب تک کی رپورٹ عہدیدارو ںنے چیف سیکریٹری کو پیش کی ۔ چیف سکریٹری نے جائزہ اجلاس میں عدالتوں کی جانب سے جاری احکامات کا جائزہ لیتے ہوئے عہدیدار وںکو ہدایت دی کہ وہ قانون کے دائرہ میں کارروائی کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے مختلف محکمہ جات بالخصو ص محکمہ آبپاشی اور محکمہ مال و دیگر متعلقہ بلدیات کی جانب سے نوٹسوں کی اجرائی پر الجھن پیدا ہونے لگی ہے ۔ محترمہ شانتی کماری نے اجلاس میں موجود پرنسپل سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق مسٹر دانا کشور کو ہدایت دی کہ وہ ORRکے حدود میں تمام نوٹسوں کی ’حیڈرا‘ کے ذریعہ اجرائی کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط تیار کریں تاکہ حکومت کی منظوری کے بعد اسے جاری کیا جاسکے۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت نے آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں تالابوں کے تحفظ کے علاوہ سرکاری اراضیات ‘ پارکس ودیگر سرکاری اثاثہ جات کے تحفظ کی ذمہ داری ’حیڈرا‘ کے حوالہ کی علاوہ ازیں حکومت سے شہر حیدرآباد کو پینے کا پانی سربراہ کرنے والے ذخائر آب عثمان ساگر و حمایت ساگر کے اطراف کارروائیوں کیلئے بھی ’حیڈرا‘ کو ذمہ داری دی ہے۔چیف سیکریٹری کی جانب سے منعقد جائزہ اجلاس میں کمشنر ’حیڈرا‘ اے وی رنگا ناتھ ‘ کمشنر حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی جناب سرفراز احمد‘ سیکریٹری محکمہ آبپاشی راہول بوجا‘ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رجنی کانت ریڈی ‘ ڈائرکٹر اینٹی کرپشن بیورو ترون جوشی ‘کے علاوہ حیدرآباد‘ رنگاریڈی ‘ میڑچل و ملکا جگری ضلع کلکٹرس کے علاوہ دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میںمسز شانتی کماری نے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ تالاب ‘ کنٹہ ‘ نالہ اور دیگر مقامات کے تحفظ کیلئے درکار سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت سے ’حیدرا‘ کو پولیس اسٹیشن اور دیگر اختیارات اور درکار عملہ کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز کیا جائے گااور جلد عملہ کی فراہمی کے ساتھ عہدیداروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔3