خاتون پولیس کمشنر ملکاجگری کا خفیہ آپریشن ، کئی منچلے افراد گرفتار ،پولیس حلقوں میں سنسنی

   

رات 12 تا 3 بجے شب تنہا سڑک پر موجودگی پر عام لڑکی جیسا برتاؤ کرنے والوں کی کونسلنگ
حیدرآباد ۔ 6 مئی ۔ ( سیاست نیوز) کمشنر پولیس ملکاجگیری کو ہراساں کرنے والے (40) منچلے افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے ۔ نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے حالات کاجائزہ لینے کمشنر نے ایک خفیہ آپریشن منعقد کیا ۔ کمشنر پولیس بی سمتھی نے ایک عام خاتون کے انداز میں دلسکھ نگر پولیس اسٹیشن پر اپنے خفیہ آپریشن کو منعقد کیا ۔ کمشنر بی سمتھی کے اس اقدام سے خود پولیس کے حلقوں میں سنسنی پھیل گئی۔ رات 12 بجے تا تقریباً 3 بجے تک کمشنر اس علاقہ میں موجود تھیں اور اس بات کی اطلاع کسی کو نہیں دی گئی ۔ دراصل روزانہ کے عام حالات کا جائٖزہ لینا کمشنر ملکاجگیری کا اہم مقصد تھا ۔ جو عام لباس میں ایک سادہ خاتون کی طرح بس اسٹیشن پر موجود تھیں۔ کمشنر کی شخصیت سے بے خبر منچلے نوجوان عام لڑکیوں جیسا برتاؤ کرنے لگے لیکن اُنھیں فوری طورپر کچھ نہیں کہا گیا ۔ بس اسٹیشن پر لاحق مشکلات ، پریشانیوں اور ہراسانی کے واقعات سے کمشنر خود واقف ہونا چاہتی تھیں ۔ اس دوران تقریباً (40) نوجوانوں نے کمشنر پولیس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ۔ اس خفیہ مشن کے بعد جہاں ان منچلے نوجوانوں کی نشاندہی کے بعد اُنھیں کونسلنگ کی گئی تو وہیں کمشنر پولیس کی یہ کارروائی محکمہ کی کارکردگی اور دلچسپی پر بھی سوالات اُٹھانے لگی ہے ۔ یہ اقدام انتہائی قابل ستائش ہے جہاں خود کمشنر نے میدان میں اُترکر کارروائی انجام دی لیکن اس سے پولیس نظام کی مبینہ لاپرواہی ، گشت اور کارروائیوں میں عدم دلچسپی بھی ظاہر ہوگئی ۔ شاید کمشنر نے بھی اس وجہہ سے اس خفیہ آپریشن کو انجام دیا ہوگا ۔ ایک طرف مسائل سے آگہی اور دوسری طرف محکمہ کی دلچسپی دونوں عیاں ہوگئے ۔ کمشنر ملکاجگیری کے اس اقدامات سے سارے کمشنریٹ میں بدعنوان، لاپرواہ اور غیرسنجیدہ افراد اور عملہ بھی چوکس ہوجائے گا ۔ عm/b