خانگی انٹر کالجس میں شام کی کلاسیس نہ رکھی جائے ، انٹر بورڈ

   

طلبہ کے لیے 8 گھنٹے نیند لازمی ، ہاسٹل پر مشتمل کالجس میں ماہرین نفسیات کی خدمات دستیاب رکھی جائے
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ انٹر بورڈ نے تمام خانگی کالجس کو مشورہ دیا کہ وہ شام کی کلاسیس نہ چلائیں اور مطالعہ کے لیے صرف دو گھنٹوں پر مشتمل اوقات کا تعین کریں ۔ حالیہ دنوں میں چند خانگی کالجس کے طلبہ دباؤ کا شکار ہو کر خود کشی کرچکے ہیں جس کا جائزہ لینے کے بعد انٹر بورڈ نے اہم رہنمایانہ خطوط تیار کرنے کے لیے ایک 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ جنہوں نے ٹھوس تجاویز پر مشتمل رپورٹ پیش کرتے ہوئے کئی تجاویز انٹر بورڈ کو پیش کی ہے ۔ بورڈ کی جانب سے ان رہنمایانہ خطوط کو عنقریب جاری کیا جائے گا ۔ رپورٹ میں خاص طور پر خانگی کالجس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبح 9 تا شام 5 بجے تک ہی کالجس چلائیں ۔ ہاسٹل میں قیام کرنے والے طلبہ کے لیے 8 گھنٹے نیند کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ شام کے وقت اسناکس سے لے کر ڈنر تک کوئی کلاسیس کا اہتمام نہیں کیا جائے اور یہ سارا وقت طلبہ کی تفریح کے لیے مختص کیا جائے ۔ خصوصی کلاسیس مثلا رات کے کھانے کے بعد ’ سلپ ٹسٹ ‘ کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ صبح یوگا اور دوسری ہلکی ورزش کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے ۔ انٹر بورڈ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ذہنی تناؤ کا شکار طلبہ کی ماہرین نفسیات سے مشاورت کرائی جائے ۔ درمیان میں تعلیم ترک کرنے کی خواہش رکھنے والے طلبہ کو اس کی اجازت دی جائے اور طلبہ کی جانب سے ادا کی گئی فیس واپس کی جائے ۔ کالجس کو رینک کے نام پر اشتہارات جاری کرنے کے لیے انٹر بورڈ سے پیشگی اجازت لینے کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ طلبہ کی توہین کرنے اور مذاق اڑانے کے بعد طلبہ کی جانب سے خود کشی کرنے پر کریمنل کیس درج کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے ۔ طلبہ کی خود کشی کے ذمہ دار لکچررس پر دوسرے کالجس میں کام کرنے پر پابندی لگا دینے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ فیکلٹی کے لیے بایئو میٹرک حاضری لازمی ہے ۔ جس کالج کے فیکلٹی کو اسی کالج میں خدمات انجام دینے کی اجازت رہے گی ۔۔ ن