آبنائے ہرمز کو پائیدار اور غیرمشروط طور پر دوبارہ کھولنے پر زور ، حالیہ حملوں کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد
دوحہ ؍ ابوظہبی؍ ریاض؍ کویت سٹی؍ مناما۔ 10 جولائی (ایجنسیز) آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے پھر کشیدگی اور خلیجی ملکوں کو بار بار نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے خلیجی ملکوں نے اپنے بیان میں ایران پر زور دیا ہے کہ تہران کیلئے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 اور امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی مکمل پابندی کرنا ضروری ہے۔خلیج تعاون کونسل کے ملکوں نے اس کے ساتھ آبنائے ہرمز کو پائیدار اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے پر بھی زور دیا اور کسی بھی یکطرفہ اور غیر قانونی طریقہ کار یا انتظامات کو مسترد کردیا۔خلیجی ممالک نے اس ایرانی حملے کی شدید مذمت اور ملامت کی ہے جس میں آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے سعودی بحری جہاز “ودیان” اور قطری بحری جہاز “الرکیات” کو نشانہ بنایا گیا اور دونوں جہازوں کے عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی جہاز رانی کے امن و سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی پر ایک ناقابلِ قبول حملہ قرار دیا ہے۔بیان میں بحرین اور کویت کے خلاف ایرانی حملوں کے تکرار کے واقعہ کی خلیجی مذمت کی گئی۔ ایرانی حملوں کو بین الاقوامی قانون کے احکامات اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ یہ قرار سمندری جہاز رانی کی آزادی اور سمندری راستوں سے محفوظ گزرنے کی ضمانت دیتی ہے۔ خلیجی ملکوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس مفاہمت کی یادداشت کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔اسی تناظر میں خلیجی ممالک نے ان حملوں اور ان کے نتائج کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ان معاندانہ کارروائیوں کا تسلسل اور خطے کے امن کو بگاڑنے والا رویہ علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کو سبوتاج کرتا ہے۔
بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے اور توانائی کی مارکیٹوں کے استحکام اور عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ یہ سب کچھ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو ایرانی نشانہ بنائے جانے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی تصادم کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے ایران کی گہرائی میں 80 سے زائد اہداف پر حملے کیے۔خلیجی ملکوں نے اپنے ممالک کے درمیان مکمل یکجہتی اور ان حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک صف میں کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کونسل کے ملکوں کا امن ایک ناقابلِ تقسیم اکائی ہے اور خلیج تعاون کونسل کے بنیادی منشور اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ملک پر ہونے والا حملہ تمام ممالک پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا۔
اسی فریم ورک کے تحت خلیجی ممالک نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے اس دفاعِ خود اختیاری کے حق کی تصدیق کی جو جارحیت کی صورت میں ممالک کو انفرادی اور اجتماعی طور پر دفاعِ خود اختیاری کا حق دیتا ہے اور وہ تمام اقدامات اٹھانے کا حق دیتا ہے جو ان کی خودمختاری، امن اور استحکام کا تحفظ کریں۔