درگاہ کمیٹی و سجادگان سے ملاقات ۔ قانونی ‘ دستوری اور سیاسی لڑائی میں ساتھ دینے کا تیقن ۔ فرقہ پرست عناصر پر تنقید
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد نے اجمیر کی درگاہ پر مندر کے دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ عدالتوں کو اس طرح کے بے بنیاد اور جھوٹے دعوؤں کو قابل اعتناء ہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ عبادت گاہوں سے متعلق قانون کی موجودگی میں اگر اسی طرح کے دعووں کو عدالتیں قبول کر تی ہیں اور سروے کے آرڈر پاس کرتی ہیں تو اندیشہ ہے کہ اس سے ملک میں لاقانونیت اور نراج کو ہوا ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار پرسنل لا بورڈ کے وفد نے اجمیر میں ایک پریس کانفریس کے دوران کیا۔آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک وفد جس کی قیادت بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا شاہ محمد فضل الرحیم مجددی نے کی اور جس میں ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان ‘مولانا ابوطالب رحمانی اور جناب ناظم الدین امیرحلقہ، جماعت اسلامی، راجستھان شریک تھے، نے درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ، اجمیر کا دورہ کیا اور درگاہ کمیٹی و سجادگان سے ملاقات کی اور مقدمہ پر اظہار افسوس کیا۔ وفد نے ذمہ داران کو یقین دلایا کہ بورڈ نہ صرف اخلاقی طور پران کے ساتھ ہے بلکہ وہ ہر قسم کی قانونی، سیاسی اور دستوری لڑائی میں ساتھ دے گا۔بعد ازان سجادگان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بورڈ نے واضح کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اجمیر کی تاریخی درگاہ پر بے بنیاد دعوے کو پوری طرح مسترد کرتا ہے، اسے اس حیرت اور تشویش ہے کہ تاریخی شواہد اور قانونی دستاویزات اور پلیسز آف ورشپ ایکٹ کی موجودگی کے باوجود کس طرح مقامی عدالت نے اسے قبول کرکے نوٹس جاری کی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ سخت برہمی اور تشویش کا اظہار کر تا ہے کہ مختلف عدالتوں میں یکے بعد دیگرے مساجد اور درگاہوں پر دعووں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ابھی سنبھل کی جامع مسجد کا معاملہ تھما نہیں تھا کہ عالمی شہرت یافتہ اجمیر کی درگاہ پر مندر نے کا دعویٰ کیا گیا۔ شکایت کنندہ نے درگاہ کمیٹی، وزارت برائے اقلیتی امور اور محکمہ آثار قدیمہ کو مدعا علیہ بنا یا ۔عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991کی موجودگی میں ایسے دعوے قانون اور دستور کا کھلا مذاق ہیں۔ پارلیمنٹ میں قانون لاتے وقت واضح کیا گیا کہ 15 اگست 1947 کو جس عبادت گاہ کی(مسجد، مندر، گرودوارہ، بودھ وہار، چرچ )کی جو حالت تھی وہ علیٰ حالہ باقی رہے گی اور اس کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ دراصل اس کا مقصد بالکل واضح تھا کہ بابری مسجد کے بعد کسی اور مسجد یا دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو نشانہ نہیں بنا یا جا سکے۔ تاہم یہ افسوس اور شرم کی بات ہے کہ گیان واپی مسجد، وارانسی، متھرا کی شاہی عیدگاہ، بھوج شالہ مسجد، (مدھیہ پر دیش)، ٹیلے والی مسجد لکھنو، سنبھل جامع مسجد اور جونپور کی مسجد کے ساتھ اجمیر درگاہ پر بھی دعویٰ کر دیا گیا۔ اس قانون کے ہو تے ہوئے عدالت نے عرضی گزار وشنو گپتا کی درخواست کو نہ صرف سماعت کیلئے منظور کرلیا بلکہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔ ہندوفریق نے دعویٰ کیا کہ درگاہ کی زمین پر بھگوان شیو کا مندر تھا ،جس میں پوجا اور جل ابھیشیک ہوا کر تا تھا۔ بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے نہ صرف یہ کہ اس قانون کا حوالہ دیا تھا بلکہ یہاں تک کہا تھا کہ اس ایکٹ کی موجودگی میں کوئی نیا دعویٰ پیش نہیں کیا جا سکے گا۔ لیکن جب گیان واپی مسجد پر نچلی عدالت نے دعویٰ قبول کر لیا تو مسلم فریق عدالت عظمیٰ کے سامنے یہ کہہ کر اپنا کیس لے گیا کہ پلیسز آف ورشپ ایکٹ میں اس دعویٰ کو عدالت کو قبول نہیں کر نا چاہیے تاہم عدالت نے اس پر نرمی اختیار کر لی کہ سروے کئے جانے سے 1991 کے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہو تی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب متھرا کی شاہی عید گاہ، گیان واپی مسجد، لکھنو کی ٹیلہ والی مسجد،سنبھل جامع مسجد، جونپور مسجد اور اجمیر شریف کی درگاہ پر دعویٰ کر دیا گیا۔ اجمیر کی درگاہ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی شخصیت صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندووں کیلئے قابل احترام و عقیدت ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگر اس سلسلہ کو نہیں روکا گیا تو یہ ملک میں انتشاراور بدامنی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کو سختی سے نافذ کریں۔پریس کانفرنس کو مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس اور مولانا ابو طالب رحمانی نے مخاطب کیا۔ آخر میں درگاہ کمیٹی کی جانب سے مولانا سرور چشتی نے اس اظہار یکجہتی کیلئے مسلم پرسنل لا بورڈ کا شکر یہ ادا کیا اور بورڈ کے ساتھ مل کر کام کر نے پر اتفاق کیا۔