دستور اور جمہوریت کے بچاؤ کیلئے دانشوروں اور جہد کاروں کا عہد

   

ناگپور میں نمائندہ اجلاس، سی پی آئی قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد ۔7۔ ستمبر (سیاست نیوز) ملک کی مختلف سیکولر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں ، جہد کاروں اور قائدین کا اجلاس ناگپور میں منعقد ہوا جس میں جمہوریت بچاؤ اور دستور بچاؤ کے عنوان سے عوام میں شعور بیداری مہم کا فیصلہ کیا گیا ۔ سی پی آئی ، سی پی ایم ، ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے نمائندوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کیلئے سیکولر اور جمہوری جماعتوں میں اتحاد کی تائید کی۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ اگر ملک میں سنگھ پریوار کی حکمرانی جاری رہی تو دستور کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی خود کو G-20 کے مستقل صدر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، حالانکہ ہر سال مختلف ممالک میں صدارت منتقل کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ صورتحال کے نتیجہ میں عالمی سطح پر ملک کا وقار مجروح ہوا ہے۔ سروے کے مطابق صرف 37 فیصد افراد تسلیم کرتے ہیں کہ ملک مودی دور حکومت میں مستحکم ہوا ہے۔ امریکہ میں 26 فیصد ، سنگا پور اور ملایشیا میں 21 اور 19 فیصد عوام ہندوستان کے مستحکم ہونے کو تسلیم کر رہے ہیں۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ 29 سیکولر پارٹیوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد انڈیا نے جمہوریت اور دستور کو بچانے کی مہم شروع کی ہے ۔ سی پی آئی قائد نے کہا کہ نریندر مودی نے شخصی تشہیر پر 100 کروڑ سے زائد خرچ کئے ہیں جبکہ چندریان 3 پراجکٹ کا خرچ 640 کروڑ رہا۔ جہد کار شیام دادا گائیکواڈ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں بی جے پی کو شکست دینے کیلئے متحد ہوجائے۔ بی جے پی دستور اور قانون کے خلاف کام کر رہی ہے۔ پروفیسر رنجیت مشرام نے دستور سازی میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے رول کی وضاحت کی ۔ سی پی ایم قائد کامریڈ ارون نے فرقہ پرست طاقتوں اور سنگھ پریوار کے خلاف عوام کو متحد ہونے کا مشورہ دیا۔ پروفیسر سشی نے کہا کہ اسرو کے چندریان مشن کی کامیابی کا سہرا بی جے پی اپنے سر باندھنا چاہتی ہے۔ اجلاس سے پروفیسر رمیش ، حاجی جاوید پاشاہ ، اشوک سرسوتی اور دوسروں نے مخاطب کیا۔

شریمتی جئے شری نے اس موقع پر دستور اور جمہوریت کے تحفظ کا حلف دلایا۔