دھرانی پورٹل میں اندراج کے نام پر اضلاع میں گھروں کا سروے

   

مسلمانوں میں تشویش، عوام میں پائی جانے والی بے چینی دور کرنے حکومت سے مطالبہ
حیدرآباد : دھرانی پورٹل ایپ میں اندراج کے نام پر اضلاع میں سروے کرتے ہوئے گھروں اور ارکان خاندان کے تعلق سے تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں جس سے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومت پر ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر وضاحت کرے اور عوام میں پائی جانے والی تشویش کو دور کرے کیوں کہ حکومت نے ایل آر ایس اسکیم کا اعلان کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے غیر مجاز پلاٹس، لے آؤٹس، زرعی و غیر زرعی اراضی کو اس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے باقاعدہ بنالیں۔ اس اسکیم پر ریاست بھر میں مثبت ردعمل بھی حاصل ہورہا ہے۔ تاحال 5.68 لاکھ درخواستیں وصول ہوئی ہیں اور بطور اڈوانسڈ حکومت کو 5779.17 کروڑ روپئے بھی وصول ہوئے۔ اس اسکیم کے تحت درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ 15 اکٹوبر ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے دسہرہ کے موقع پر دھرانی پورٹل ایپ کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے اور اُس سے قبل رجسٹریشن سے متعلق تمام تیاریوں کو دھرانی پورٹل ایپ میں شامل کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔ مگر بعض اضلاع سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ سرکاری عملہ گھر گھر پہنچ کر گھروں سے متعلق تفصیلات اکٹھا کررہا ہے جس سے مقامی عوام بالخصوص مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے کیوں کہ حکومت نے صرف ایل آر ایس اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس کا اطلاق صرف زرعی و غیر زرعی اراضیات و جائیدادوں پر ہوتا ہے۔ اس اسکیم کا گھروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گھروں کے لئے بی آر ایس اسکیم ہوتی ہے جو ہائیکورٹ میں زیرالتواء ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عملہ سے اس کی وجوہات طلب کرے۔ اگر حکومت کی جانب سے کوئی سرکیولر جاری کیا گیا تو اس سے متعلق شعور بیدار کریں۔ دھرانی پورٹل ایپ میں اندراج کے نام پر گھر گھر پہونچ کر مالک مکان کی تفصیلات، مکان کے رجسٹریشن دستاویزات یا پٹہ پاس بک کی تفصیلات، مالک مکان اور اس کے ارکان خاندان کے آدھار کارڈس، شناختی کارڈ، مالک مکان کی پاسپورٹ تصویر، ٹیکس رسید، نل اور برقی بل کی رسید، فوڈ سکیورٹی کارڈ، جن دھن بینک اکاؤنٹ پاس بک، جاب کارڈ کی تفصیلات، آسرا پنشن کی تفصیلات، مالک مکان اور متعلقین کا مکمل پتہ، مالک مکان کا سیل فون نمبر، مکان کس سال تعمیر ہوا سروے کرنے والا عملہ یہ تمام تفصیلات طلب کررہا ہے۔