دہلی لکراسکام : کویتا پر شکنجہ کسنے سی بی آئی نے دیا ای ڈی کا حوالہ

   

سی بی آئی کی ابتدائی چارج شیٹ کو عدالت کی منظوری، تمام ملزمین کو سمن جاری
حیدرآباد ۔ 17 ڈسمبر (سیاست نیوز) دہلی کے رؤز اوینیو کورٹ نے دہلی لکراسکام کیس میں سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی پہلی چارج شیٹ کو کل منظوری دی۔ اس کے بعد اس نے تمام ملزمین (وجئے نائر، ابھیشیک بوئن پلی، ارون آر پلائی، ایم گوتم، سمیر مہندرو، کلدیپ سنگھ، نریندر سنگھ) کو سمن جاری کئے۔ انہیں 3 جنوری کو حاضر ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس چارج شیٹ کے مطابق جنوبی خطہ کے شراب تیار کرنے والوں نے دہلی لکر بزنس کو اپنے قبضہ میں لینے کے لئے ایک پلان بنایا۔ سی بی آئی نے امیت اروڑہ کی ریمانڈ رپورٹ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے تذکرہ کا حوالہ دیا کہ ایم ایل سی کویتا، سرتھ چندرا ریڈی اور ایم سرینواسلو ریڈی ان کی جانب سے قائم کردہ ساوتھ گروپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ساوتھ گروپ نے ان کے فائدہ کیلئے دہلی لکر پالیسی میں تبدیلی لانے کی سازش کی۔ ابھیشیک بوئن پلی نے جنوبی خطہ کے لکر پروڈیوسرس کی جانب سے یہ معاملہ کیا۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میں یہ بات کہی گئی۔ اس چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ابھیشیک بوئن پلی نے حوالہ کے ذریعہ تقریباً 30 کروڑ روپئے کی رقم منتقل کی۔ یہ پوری رقم دنیش اروڑہ کی جانب سے وجئے نائر کو جولائی اور ستمبر 2021ء کے درمیان ایڈوانس کے طور پر دی گئی تھی۔ سی بی آئی نے بتایا کہ دہلی حکومت کے ہیڈس پر اثرانداز ہونے کیلئے ایک سازش کی گئی۔ ہول سیلرس کو 12 فیصد نفع حاصل ہونے کیلئے جس کا چھ فیصد ابھیشیک کو واپس ہوگا۔ چارج شیٹ کے مطابق رامچندرن پلائی کو بینک اکاؤنٹس کے ذریعہ 4,756 کروڑ روپئے وصول ہوئے اور ان کے اکاؤنٹ سے ابھیشیک بوئن پلی کو 3.85 کروڑ روپئے منتقل کئے گئے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ کچھ رقم گوتم کے میڈیا ہاؤزس کو منتقل کی گئی۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میں کہا گیا کہ تمام سات ملزمین مجرمانہ سازش میں ملوث ہیں۔