مخالف تلنگانہ قرار دینے کی مذمت، نائب صدر پردیش کانگریس نرنجن کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔16۔ اگست (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے تلنگانہ سے راجیہ سبھا کی نشست کیلئے ہائی کمان کی جانب سے نامور قانون داں ابھیشک منو سنگھوی کے نام کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ پردیش کانگریس کے نائب صدر جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ راجیہ سبھا میں تلنگانہ کی نمائندگی ابھیشک منو سنگھوی کریں گے جو پارٹی کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ وہ ایک نامور قانون داں کے علاوہ دانشور ہیں جنہوں نے کئی سماجی تحریکات میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بی آر ایس قائدین کی جانب سے ابھیشک منو سنگھوی کی امیدواری کی مخالفت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نرنجن نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کو کانگریس ہائی کمان کے فیصلہ پر سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بی آر ایس قائدین وی روی چندر اور سرینواس گوڑ نے ابھیشک منو سنگھوی کے بجائے تلنگانہ کے کسی مقامی شخص کو امیدوار بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی کوتاہ ذہنی کا ثبوت دیا ہے۔ کانگریس پارٹی ایک قومی پارٹی ہے اور وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ کس سے کہاں نمائندگی دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو بی آر ایس سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سینئر قائد وی ہنمنت راؤ نے مختلف عہدوں پر تلنگانہ میں کانگریس میں اہم رول ادا کرچکے ہیں اور کانگریس ہائی کمان انہیں اہم ذمہ داری دینے کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے صدر پردیش کانگریس کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے پارٹی کے استحکام میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ نرنجن نے ابھیشک منو سنگھوی کو مخالف تلنگانہ قرار دینے کی مذمت کی اور کہا کہ نامور قانون داں نے کبھی بھی تلنگانہ کی مخالفت نہیں کی۔ بی آر ایس پارٹی نے تلنگانہ کے مخالفین کو کابینہ میں شامل کیا تھا ۔ نرنجن نے کہا کہ کے ٹی آر کی جانب سے خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت کی مخالفت افسوسناک ہے۔ دراصل یہ اسکیم کافی مقبول ہوچکی ہے جس سے بی آر ایس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر نے اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کی توہین کی ہے۔ نرنجن نے کے ٹی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں اور خواتین سے معذرت خواہی کریں۔ 1