راہول گاندھی ملک کے ہندوؤں میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں

   

کانگریس کی تاریخ دلت مخالفت سے بھری ہوئی ہے ۔ بی جے پی کی جوابی تنقید

نئی دہلی، 29 اگست (یو این آئی) بی جے پی نے کانگریس کو ذات پات پر مبنی اور دلت مخالف قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی ملک میں ٹکراؤ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی ترجمان گرو پرکاش پاسوان اور ڈاکٹر سدھانشو ترویدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دلت کی توہین معاملے پر کانگریس اور راہول گاندھی پر تنقید کی ۔ مسٹر پاسوان نے کہا کہ کانگریس اور راہول دونوں ہی دلت مخالف ہیں۔ کانگریس کی تاریخ دیکھیں تو ان کا اصلی چہرہ آپ کے سامنے آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے احترام کی بات کر رہے ہیں۔ میں آپ کو ایک تصویر دکھانا چاہتا ہوں۔ پرینکا گاندھی واڈرا کیرالہ کے وائناڈ سے الیکشن لڑنے والی تھیں۔ الیکشن سے پہلے نامزدگی کا عمل ہوتا ہے ، جس میں پارٹی کے تمام سینئر رہنما شامل ہوتے ہیں۔ اندر کون گیا؟ پرینکا، سونیا گاندھی، پرینکا کے شوہر اور ان کے بچے ۔ باہر کون کھڑا تھا؟ کھرگے دروازے پر باہر کھڑے ہو کر اندر دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چاہے پنجاب کے چرنجیت سنگھ چنی ہوں، ہریانہ کی کماری شیلجا، بہار کے راجیش رام، کرناٹک کے جی پرمیشور یا مرکز میں کھرگے یہ تمام مثالیں دکھاتی ہیں کہ کس طرح کانگریس نے دلت برادری کو سیاسی روٹیاں سیکنے کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کس نے یہ یقینی بنایا تھا کہ ڈاکٹر امبیڈکر الیکشن نہ جیت سکیں۔ پاسوان نے کہا کہ ہمیں کانگریس اور راہول سے دلت دوست ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی زندگی میں ان کی پیدائش سے ان کے انتقال تک جن جن جگہوں پر وہ گئے یا جہاں جہاں ان کے قدم پڑے اگر ان میں سے کسی بھی جگہ کو کسی نے تیرتھ گاہ کا درجہ دیا ہے ، تو وہ کام بی جے پی اور وزیرِ اعظم مودی نے کیا ہے ۔سدھانشو ترویدی نے کانگریس اور راہول پر ہندوؤں کو آپس میں لڑانے اور میکالے ، مارکس اور مولانا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام لگایا۔