مجلس اور عام آدمی پارٹی ،بی جے پی کی بی ٹیم ، تلنگانہ میں مجلس سے مفاہمت نہیں، کانگریس کے ووٹ کاٹنے دیگر ریاستوں میں مقابلہ کا الزام
حیدرآباد۔یکم نومبر، ( سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر قائد جئے رام رمیش نے کہا کہ ٹی آر ایس کی تاریخ سے کے ٹی آر کو واقف کرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اچھے طرح جانتے ہیں کہ 2007 میں پاسپورٹ کے ایک بڑے اسکام میں ٹی آر ایس کے اہم قائدین ملوث تھے۔ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ کے سی آر اپنی پارٹی کو قومی سطح پر پھیلانے کیلئے بی آر ایس کا نام دے چکے ہیں اور وہ جی آر ایس یعنی گلوبل راشٹرا سمیتی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کو ان کے خواب پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 2007 میں پاسپورٹ اسکام میں کئی اہم ٹی آر ایس قائدین ملوث پائے گئے اور کے ٹی آر کو یہ بات بھولنی نہیں چاہیئے ۔ بھارت جوڑو یاترا دراصل کے سی آر جوڑو یاترا نہیں ہے۔ کے سی آر اپنی پارٹی کی جانب سے ہر قدم کیلئے آزاد ہیں اور کانگریس پارٹی خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ٹی آر ایس کی طرح کانگریس نظام شاہی پارٹی نہیں ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ حیدرآباد میں کے سی آر کی شکل میں نظام کی حکومت ہے۔ جئے رام رمیش نے وضاحت کی کہ بھارت جوڑو یاترا انتخابی فائدہ کے مقصد سے نہیں نکالی گئی۔ اس یاترا کے پسِ پردہ گجرات، ہماچل پردیش اور منوگوڑ نہیں ہے۔ 2024 لوک سبھا انتخابات میں کامیابی اس یاترا کا مقصد نہیں ہے۔ ملک میں معاشی بدحالی، سماجی ناانصافی اور سیاسی تانا شاہی کے خلاف راہول گاندھی نے یاترا کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یاترا کی صورت میں کانگریس تنظیمی طور پر مستحکم ہوگی اور اس کا اثر انتخابات پر پڑ سکتا ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا انتخابات کیلئے جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ مجلس اور عام آدمی پارٹی کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ اسد اویسی پہلے یو پی اے میں شامل تھے اور انہوں نے یو پی اے کا آکسیجن سلینڈر نکال کر بی جے پی کا اختیار کرلیا۔ انہوں نے برانڈ بدل دیا ہے۔ اسد اویسی میرے اچھے دوست ہیں اور پڑھے لکھے شخص ہیں۔ میری زیر قیادت پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی میں وہ رکن ہیں لیکن بہت کم اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔ اکثر مسائل پر ان سے بحث ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ بی جے پی سے آکسیجن حاصل کرتے ہوئے اسے بوسٹر ڈوز دے رہے ہیں۔ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ جمہوریت میں ہر کسی کو انتخابات میں حصہ لینے کا اختیار ہے اور مجلس کا مقصد چناؤ لڑنا اور کانگریس کے ووٹ کاٹنا ہے۔ ہر ریاست میں جانا اور مہم کے ذریعہ ووٹ کاٹنا مجلس کا ایک ہی کام ہے۔ عام آدمی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ عام آدمی پارٹی دراصل 2012 میں آر ایس ایس کی تائیدی مخالف کرپشن مہم کی پیداوار ہے۔ دہلی میں انڈیا اگینس کرپشن کی مہم چلائی گئی اور یہ آر ایس ایس کی محاذی تنظیم کا کام تھا اسی مہم سے عام آدمی پارٹی کا وجود ہوا ہے۔ عام آدمی پارٹی قائدین جس انداز میں انتخابی مہم چلارہے ہیں اور جن موضوعات کو پیش کررہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں پارٹیاں دکھاوے کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ پنجاب اور دہلی حکومتوں کی مدد سے عام آدمی پارٹی کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ گجرات میں زمینی حقیقت کے مطابق بی جے پی اور کانگریس میں مقابلہ ہے اور عام آدمی پارٹی کے مقابلہ کی صورت میں کانگریس کے ووٹ تقسیم ہوں گے۔ گجرات ماڈل کو نقلی قرار دیتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ گجرات جہاں طیارے بنانے کا منصوبہ ہے وہاں ایک پُل نہیں بنایا جاسکا پُل کے انہدام سے 150 افراد کی جان چلی گئی۔ کنٹراکٹر کو کام الاٹ کرنے کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ وہ تلنگانہ کے چپہ چپہ کا دورہ کرچکے ہیں اور بھارت جوڑو یاترا کے دوران انہوں نے سڑکوں کی ابتر حالت کا مشاہدہ کیا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے 8 سال مکمل ہوگئے لیکن آج بھی سڑکیں درست نہیں ہیں۔ تلنگانہ کے قیام سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا جبکہ کے سی آر اور ان کے خاندان کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ماڈل پر کے سی آر کی دعویداری افسوسناک ہے۔ وائی ایس آر دور حکومت میں انفارمیشن ٹکنالوجی اور دیگر شعبہ جات نے ترقی کی۔ 1950 میں نیشنل پولیس اکیڈیمی کا قیام عمل میں آیا اور 1974 میں اسے سردار ولبھ بھائی پٹیل سے موسوم کیا گیا۔ کے ٹی آر ترقی کے لاکھ دعوے کرلیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2014 سے قبل کانگریس اور دیگر حکومتوں نے شہر کو ترقی دی جن میں چندرا بابو نائیڈو، وجئے بھاسکر ریڈی اور این ٹی راما راؤ شامل ہیں۔ ٹی آر ایس کو تلنگانہ کی ترقی وراثت میں ملی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جئے رام رمیش نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کو وجہ نمائی نوٹس دی گئی ہے اور ان کا جواب ملنے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ مجلس کے ساتھ دوبارہ اتحاد کے بارے میں سوال پر جئے رام رمیش نے کہا کہ اب گنجائش باقی نہیں رہی۔ بہار، مہاراشٹرا، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں بی جے پی کے اشارہ پر ووٹ کاٹ کررہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک بار طلاق ہوجائے تو رجوع کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ یہ ایک طلاق ہے طلاق ثلاثہ نہیں۔ر