پہلے دہے کے بعد مصلیوں کا غائب ہوجانا افسوسناک ، حفاظ کی خدمات سے نعمتوں کا حصول
حیدرآباد۔یکم ۔ مارچ۔(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع میں ماہ رمضان المبارک کے دوران ہزاروں حفاظ کرام تراویح اور تہجد کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ ماہ رجب سے ہی مسلسل مشقت کرتے ہوئے اپنی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں لیکن ماہ رمضان المبارک کے پہلے دہے کے بعد تراویح کو ترک کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔تراویح ماہ رمضان المبار ک کے دوران قیام اللیل کی خصوصی عبادت ہے جو صرف پہلے دہے کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ مکمل رمضان کے دوران تراویح کے علاوہ قیام اللیل کے خصوصی اہتمام کئے جانے ہے لیکن شہر حیدرآباد کے علاوہ ملک کے دیگر شہری علاقوں میں یہ چلن عام ہوتا جا رہاہے کہ ماہ رمضان المبارک کے پہلے دہے میں تراویح کا خصوصی اہتمام کرتے ہوئے دوسرے دہے کے بعد سے تروایح کی نماز کو ترک کیا جانے لگتا ہے اور تروایح کے دوران دوسرے دہے سے مصلیوں کی تعداد محدود ہوجاتی ہے۔مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ امیر امارت ملت اسلامیہ نے کہا کہ سنت کی ادائیگی سے محرومی نہ ہو اس کے لئے رمضان المبار ک کے ایک لمحہ کو بھی ضائع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اللہ رب العزت نے اس ماہ مبارک میں کئی نعمتیں رکھی ہیں اور جن میں سب سے اہم نعمت رحمت خدا وندی ‘ مغفرت اور بخشش کے علاوہ قرب الہی کا موقع ہے ۔انہوں نے بتایا کہ صلواۃ التراویح سنت مؤکدہ ہے اور اس سنت کی ادائیگی میں کوتاہی سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے ماہ شعبان المعظم کے دوران اصحاب رسولﷺ کو اس بات کی تاکید فرمائی کہ تم پر جو مہینہ یعنی (رمضان) آرہا ہے اس مہینہ میں روزہ رکھواور رات کے وقت قیام کیا کرو۔مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران قرآن کا سننا اور قیام اللیل سنت ہے اور عام طور پر پہلے دہے میں قیام اللیل کے دوران قرآن مجید کی سماعت کے ذریعہ دونوں سنتوں پر عمل کیا جا رہاہے جبکہ دوسرے دہے سے دونوں ہی سنتیں ترک کی جانے لگی ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران بندہ قیام اللیل کرتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اللہ کے گھر میں ہونے کے سب کئی لغویات سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ سے قریب ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک قرب الہی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اسی لئے اس مبارک مہینہ کے ایام کو ضائع کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے اور رات کے اوقات میں قیام اللیل کے علاوہ دن میں قرآن پاک کی تلاوت پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ قرآن کے نزول کے اس مہینہ کے دوران تلاوت قرآن کی کثرت کرنی چاہئے اور اپنے گھروں میں بھی اس بات کی تلقین کرنی چاہئے کہ گھر والے بھی تلاوت قرآن کا اہتمام کریں اور احکام الہی کو سمجھیں۔انہوں نے ماہ رمضان المبارک کے دوران قیام اللیل کو تہجد گذار بننے کا بہترین ذریعہ قرارد یا اور کہا کہ بندۂ مومن کو اس ماہ کی عبادتوں بالخصوص رات کے وقت کی جانے والی عبادتوں کے دوران امت مسلمہ کی ہدایت و حفاظت کیلئے دعائیں کرنی چاہئے ۔مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی نے کہا کہ اللہ نے جنہیں یہ مہینہ عطا کیا ہے اسے غفلت نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس ماہ مقدس کے ہر لمحہ سے استفادہ کرتے ہوئے ثواب کمانے کی فکر کرنی چاہئے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ماہ رمضان المبارک کے پہلے دہے میں نماز تراویح کا اہتمام اور دوسرے دہے کے بعد سے لغویات میں مصروف ہوجانا انتہائی بدبختانہ عمل ہے۔ مولاناحافظ عبدالقیوم نعمانی نے بتایا کہ ریاست بھر میں بیشترتمام مساجد میں تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن شہری علاقوں میں یہ کلچر عام ہوتا جا رہاہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ نوجوانوں میں ماہ رمضان المبارک کے تقدس اور اس ماہ مبارک کی ساعتوں کی اہمیت کا احساس پیدا کیا جانا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں بھی اس ماہ مقدس کی اہمیت کا احساس پیدا ہو اور آئندہ نسلوں میں یہ خرابی پیدا نہ ہونے پائے۔3