رمضان کی آمد آمد، ائمہ اور موذنین کو 4 ماہ کے اعزازیہ کا انتظار

   

وقف بورڈ سے رقم جاری، محکمہ فینانس کا تساہل، اکٹوبر تا جنوری کے اعزازیہ کی جلد اجرائی ضروری

حیدرآباد۔/12فروری، ( سیاست نیوز) رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور تلنگانہ کے ائمہ اور موذنین کو گذشتہ چار ماہ سے اعزازیہ کا انتظار ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ کی بروقت اجرائی کی حکومت کی جانب سے ہدایت دی گئی لیکن محکمہ فینانس کے عدم تعاون رویہ کے نتیجہ میں ائمہ اور موذنین گذشتہ چار ماہ سے اعزازیہ سے محروم ہیں۔ اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے کو ہے لہذا ضروری اخراجات کی تکمیل کیلئے ائمہ اور موذنین کو اعزازیہ کی رقم پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ائمہ اور موذنین کی جانب سے اعزازیہ کی اجرائی کیلئے وقف بورڈ کے حکام سے نمائندگی کی گئی لیکن وہ محکمہ فینانس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے جملہ 15700 ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ جاری کیا جاتا ہے اور فی کس5 ہزار روپئے کے حساب سے ماہانہ 7.50 کروڑ کی اجرائی عمل میں آتی ہے۔ وقف بورڈ نے ستمبر 2024 تک کا اعزازیہ جاری کردیا جبکہ اکٹوبر سے جنوری تک چار ماہ کا اعزازیہ جاری کرنا باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ نے دو، دو ماہ کے حساب سے اعزازیہ کی رقم سے متعلق پروسیڈنگ جاری کرتے ہوئے محکمہ فینانس کو روانہ کئے ہیں۔ محکمہ فینانس کے عہدیدار کمزور معاشی موقف کا بہانہ بناتے ہوئے اعزازیہ کی رقم جاری کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے رقم کی اجرائی کے باوجود محکمہ فینانس کا تساہل معنی خیز ہے جبکہ محکمہ فینانس کو اپنے طور پر بجٹ جاری کرنا نہیں ہے اور وقف بورڈ کو الاٹ کردہ فنڈ کی اجرائی میں تساہل کے سبب ہزاروں ائمہ اور موذنین مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ائمہ اور موذنین کے اعزازیہ کو ماہانہ علی الترتیب 8 اور 10 ہزار کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن عمل آوری کا آغاز نہیں ہوسکا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے مطابق بیشتر اسکیمات کے بجٹ کی اجرائی میں محکمہ فینانس سے رکاوٹ کے سبب اسکیمات کے آغاز میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ رمضان المبارک کے پیش نظر حکومت کو چاہیئے کہ اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے محکمہ فینانس کو رقومات کی اجرائی کی ہدایت دے۔1