کیف: یوکرین میں پیر کے روز جنگ میں شدت آگئی ہے۔ روسی فوجی یوکرین کے علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا رہے ہیں تو دوسری جانب یوکرین کی افواج روس کی گرفت سے اپنی زمینیں واپس لینے کی کوشش کر کے مزاحمت کر رہی ہیں۔یوکرین کے صدارتی دفتر نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح کیف کوخودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یوکرین کے صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر آندرے یرمک نے میسجنگ ایپلی کیشن ٹیلی گرام پر کہا ہے کہ کیف پر پیر کے روز کامیکازے ڈرونز سے بمباری کی گئی۔ حکام نے الارم بجا کر کیف کے رہائشیوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔روسی بمباری پر تبصرہ کرتے ہوئے یوکرین صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی چھاپے یوکرینیوں کو نہیں توڑیں گے۔یوکرین کی فضائیہ کے ترجمان یوری احنات نے پیر کو کہا کہ یوکرین نے اتوار کی شام سے لے کر اب تک 37 روسی ڈرون مار گرائے ہیں جو تازہ ترین حملوں میں ملوث تعداد کا تقریباً 85 سے 86 فیصد ہے۔ انہوں نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ یہ ہمارے فضائی دفاع کی کوششوں کا ایک اچھا نتیجہ ہے۔ یہ تعداد مستقبل میں بڑھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ڈرون جنوب سے یوکرین کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔یوکرین میں سومی کے گورنر نے اطلاع دی ہے کہ روسی بمباری نے رومنسکی میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا اور یہاں پر جانی نقصان بھی ہوا ہے۔