روس کی جنگ میں دھوکہ سے شامل حیدرآبادی نوجوان جاں بحق

   

حیدرآباد ۔ 6 مارچ (سیاست نیوز) روس اور یوکرین کے خلاف جنگ میں ایک حیدرآبادی نوجوان ہلاک ہوگیا جس کو دھوکہ سے جنگ کا حصہ بنایا گیا۔ 30 سالہ محمد اسفان کو ملازمت کے نام پر دھوکہ باز ایجنٹوں نے روس روانہ کیا تھا جہاں اسے مجبوراً جنگ میں شامل کردیا گیا۔ اسفان کی جنگ میں ہلاکت سے متعلق خبر کی سفارت خانہ کی جانب سے تصدیق کردی گئی ہے، تاہم افراد خاندان کو ابھی بھی ان کی سلامتی اور واپسی کی امید ہے چونکہ ایجنٹس ابھی بھی اُس خاندان کو دلاسہ دے رہے ہیں۔ نامپلی بازار گھاٹ علاقہ سے تعلق رکھنے والے محمد اسفان کو خلیجی ممالک میں ملازمت کا جھانسہ دے کر روس روانہ کیا تھا جہاں اسفان کے ساتھ دیگر افراد بھی تھے جنہیں روسی فوج میں شامل ہونے کیلئے مجبور کیا گیا اور انہیں عارضی تربیت فراہم کرتے ہوئے جنگ کے محاذ پر روانہ کردیا گیا۔ اسفان نے اپنے بڑے بھائی عمران کو اس سارے معاملہ اور وہاں کے حالات سے واقف کروایا تھا۔ روس میں اسفان کو لاحق مشکلات کی اطلاع کے بعد ان کے بڑے بھائی نے اپنے بھائی کو وطن واپس لانے کی انتھک کوششیں کی اور سفارت خانہ کو بھی ان حالات سے واقف کروایا گیا۔ اسفان کی روس یوکرین جنگ میں ہلاکت کی اطلاع پر انکے بڑے بھائی عمران نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں اطلاع موصول ہوئی ہے لیکن اسفان کی ہلاکت سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت حاصل نہیں ہوا۔ عمران نے بتایا کہ انہوں نے ایجنٹس سے رابطہ کیا تو ایجنٹس نے انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ وہ اسفان سے ان کی بات کروائیں گے، وہ مسلسل رابطہ میں ہیں لیکن عمران کا کہنا ہے کہ انہیں ایجنٹس کی کسی بھی بات کا یقین نہیں ہے اور وہ اپنے سفارت خانہ پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اسفان کے متعلق اطلاع فراہم کریں اور ان کی نعش کو حیدرآباد منتقل کرنے کے اقدامات کریں۔ عمران نے دھوکہ باز ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تین ایجنٹس کا تعلق ممبئی سے ہے جن میں ایک دبئی میں رہتا ہے اور دوسرا ایجنٹ رمیش اور ناظم چینائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمران نے حکومت ہند سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ نوجوان کی سلامتی کے لئے موثر اقدامات کریں۔ 30 سالہ اسفان ایک ہونہار اور محبتی نوجوان تھا اور اس کے دو بچے ہیں۔ اسفان کی روس یوکرین جنگ میں ہلاکت کی اطلاع کے ساتھ ہی نامپلی علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور بازار گھاٹ میں واقع اسفان کے مکان پر ان کے دوست اور رشتہ دار جمع ہوگئے اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔