روہت کی موجودگی ورلڈ کپ اسکواڈ میں بڑا اثاثہ ہوگی: رہوڈز

   

نئی دہلی،2 ستمبر (آئی اے این ایس) جنوبی افریقہ کے سابق اسٹارکرکٹر جونٹی رہوڈز نے کہا ہے کہ روہت شرما جیسے تجربہ کارکھلاڑی کی ہندوستانی اسکواڈ میں موجودگی 2027 کے آئی سی سی مینز ونڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے دوران ٹیم کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہوگی۔ روہت شرما نے 288 ونڈے میچوں میں11,895رنز بنائے ہیں، جن میں 34 سنچریاں اور 62 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ 2019 کے ونڈے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر تھے، جبکہ 2023 کے ورلڈکپ میں ہندوستان کی قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو فائنل تک پہنچایا، جہاں اسے آسٹریلیا کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رہوڈز نے جیو اسٹار سے گفتگو میں کہا کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنمنٹ میں کھلاڑی کا تجربہ اور خاص طور پر دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت انتخاب کا اہم پہلو ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا،ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ورلڈ کپ کھیلنے کا تجربہ بھی ایک اہم عنصر ہے، جسے ہم اکثر نظر اندازکردیتے ہیں۔ ہم عموماً کھلاڑی کی صلاحیت، اس کی کارکردگی اور حالیہ فارم کو دیکھتے ہیں۔ ممکن ہے کسی کھلاڑی نے شاندار اننگزکھیلی ہو یا اس کا سیزن بہت اچھا گزرا ہو، لیکن ورلڈکپ میں جب دباؤ اپنے عروج پر ہوتا ہے تو صورتِ حال بالکل مختلف ہوجاتی ہے۔ سابق جنوبی افریقی کرکٹر نے کہا کہ جسمانی فٹنس کے ساتھ ساتھ ذہنی مضبوطی بھی عالمی کپ میں کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے۔کھلاڑی اپنی جسمانی حالت کا خیال رکھ سکتے ہیں، لیکن ذہنی مضبوطی ایک ایسا پہلو ہے جسے ہم انتخاب کے وقت اکثر نظر اندازکردیتے ہیں۔ میں خود چار ورلڈکپ کھیل چکا ہوں اور دو مرتبہ سیمی فائنل سے آگے نہیں بڑھ سکا، اس لیے اچھی طرح جانتا ہوں کہ ورلڈکپ کا دباؤ کتنا شدید ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ کپ میں روہت شرما جیسے کھلاڑی کی موجودگی ٹیم کے لیے بہت بڑا اثاثہ ہے۔ یورپی ٹی20 پریمیئر لیگ (ای ٹی پی ایل) میں روٹرڈیم ڈاکرزکے شریک مالک کی حیثیت سے وابستہ رہوڈز نے ویرات کوہلی کے جذبہ مسابقت اور جیت کی غیر معمولی بھوک کی بھی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کوہلی کے جارحانہ اورکبھی ہار نہ ماننے والے رویے کا ماضی کی ان طاقتورآسٹریلوی ٹیموں سے موازنہ کیا جنہوں نے عالمی کرکٹ پر طویل عرصے تک حکمرانی کی۔کوہلی نے 314 ونڈے میچوں میں 14,941 رنز اسکورکیے ہیں، جن میں 54 سنچریاں اور 79 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ رہوڈز نے کہا،ہم نے آسٹریلیا کو کئی ورلڈ کپ جیتتے دیکھا ہے۔ ان کی جارحیت اور ہر حال میں جیتنے کی توقع ان کی پہچان رہی ہے۔ میرے خیال میں ویرات کوہلی بھی اسی انداز کی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کے اندر اپنی ٹیم کے لیے میچ جیتنے کی غیر معمولی بھوک ہے۔ کوہلی کی کامیابی کا ایک بڑا راز ان کا عزم اور ہدف کے تعاقب میں غیر معمولی مستقل مزاجی ہے۔