دی ہیگ ۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے ) 2017 میں زیادہ تر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ فوجی کریک ڈاؤن کے خلاف نسل کشی کے مقدمے پر میانمار کے ابتدائی اعتراضات پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ الجزیرہ نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ عدالت نے اس سال فروری میں اعتراضات پر دلائل سنے تھے اور آئی سی جے کے صدر جج جوآن ای ڈونوگو آج سہ پہر تین بجے اپنا فیصلہ سنائیں گے ۔ نیویارک میں گلوبل جسٹس سینٹر (جی جے سی) کی سربراہ اکیلا رادھا کرشنن نے کہا کہ یہ مناسب امکان ہے کہ آئی سی جے اعتراضات کو مسترد کر دے گی۔ جب عدالت میانمار کے خلاف حقائق پر مبنی شواہد پر غور کرے گی تو عدالت اسے اس عمل کے اگلے مرحلے یعنی اہلیت کے مرحلے تک جانے کی اجازت دے گی۔ برمی روہنگیا آرگنائزیشن یو کے (بروک) کے صدر تون خن نے الجزیرہ کو بتایاکہ”یہ اعتراضات تاخیر کی حکمت عملی سے زیادہ کچھ نہیں ہیں اور یہ مایوس کن ہے کہ آئی سی جے نے اپنا فیصلہ کرنے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا دیا ہے ۔ قتل عام جاری ہے اور یہ ضروری ہے کہ عدالت مزید تاخیر کی اجازت نہ دے ۔ میانمار کے خلاف مقدمہ نومبر 2019 میں 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم کے تعاون سے آئی سی جے میں لے جایا گیا تھا۔