ہوم لون پر شرح سود اور مکانات کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کی قوت خرید متاثر۔ نائیٹ و فرینک کی رپورٹ
حیدرآباد 31 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد رہائشی مکانات کے معاملے میں اب مہنگا ترین شہر ہوتا جا رہا ہے ۔ ملک میں ممبئی مکانات خریدنے کے معاملے سب سے مہنگا شہر ہے جبکہ حیدرآباد بھی اب ممبئی کی طرح مہنگا ہوگیا اور مکانات و رہائش کی قیمتوں کے معاملے میں سارے ملک میں حیدرآباد دوسرے نمبر پر آگیا ہے ۔ مکانات کی قیمتوں کے معاملہ میں حیدرآباد نے دہلی کو تیسرے مقام پر ڈھکیل دیا ہے ۔ نائیٹ اینڈ فرینک کی رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے ۔ اپنی سالانہ رپورٹ میں نائیٹ اینڈ فرینک نے واضح کیا کہ حیدرآباد میں مکان خریدنے کی عوام کی صلاحیت میں کمی آئی ہے ۔ 2021 میں عوام کا ایک خاطر خواہ طبقہ مکان خریدی کی اہلیت رکھتا تھا تاہم اس سال اس میں گراوٹ آئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ مکان کی خریدی کیلئے قرض کیلئے سود کی شرحوں میں اضافہ کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ رہائشی مکانات و فلیٹس کی قیمتوں میںاضافہ کی وجہ سے بھی عوام ان کی خریدی کرنے کے موقف میں نہیںہیں۔ تاہم کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے قبل مکانات کی خریدی کی جو صورتحال تھی موجودہ صورتحال اس سے بھی بہتر ہی ہے ۔ 2011 میں مکان خریدی کی عوامی صلاحیت 53 فیصد تک پہونچ گئی تھی جو 2019 تک کم ہوتے ہوئے 34 فیصد تک پہونچ گئی تھی ۔ اس کے بعد سال 2020 میں کورونا وباء کی وجہ سے صورتحال اور بھی ابتر ہوگئی تھی ۔ 2021 میں یہ شرح 28 فیصد تک بحال ہوئی تھی ۔ فی الحال یہ شرح اب مزید بڑھی ہے اور 30 فیصد تک پہونچ چکی ہے ۔ عوام کی جانب سے مکان یا فلیٹ کی قوت خرید کا جائزہ ماہانہ اقساط ادا کرنے کسی خاندان کی معاشی صورتحال کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ حیدرآباد میں کم از کم 30 فیصد اخراجات ماہانہ اقساط کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتے ہیں۔ کسی خاندان کو مکان یا فلیٹ کی خریدی پر اپنی آمدنی کا 30 فیصد حصہ ماہانہ قسط کے طور پر ادا کرنا پڑتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ احمد آباد ملک میں سب سے زیادہ قابل رسائی شہر ہے جہاں عوام مکان یا فلیٹ خرید سکتے ہیں۔ اس معاملے میں کولکاتہ دوسرے نمبر پر اور پونے تیسرے نمبر پر پہونچ گیا ہے ۔ صدر نشین و مینیجنگ ڈائرکٹر نائیٹ فرینک انڈیا نے کہا کہ ہوم لون پر شرح سود میں اضافہ اور پھر گھروں و فلیٹس کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے حالانکہ عوام کی قوت خرید متاثر ضرور ہوئی ہے لیکن یہ سابق کی بہ نسبت معمولی سی گراوٹ ہے اور اس سے مارکٹ پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود اور جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ در اصل فی کس آمدنی اور جی ڈی پی میں اضافہ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ اس کا اثر ملک کے مختلف شہروں کی رہائشی مارکٹ پر بھی مرتب ہوا ہے ۔